کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پانی کو ناپاک (خراب) کرنے والی اشیاء کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: دو قلہ سے کم ٹھہرے ہوئے پانی میں نجاست گرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَالُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يُغْتَسَلُ مَنْهُ " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْوَضُوءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " رَوَاهُمَا مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ⦗٣٥٨⦘ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: فَإِنْ عَجَنَ بِهِ يَعْنِي بِالْمَاءِ النَّجِسِ عَجِينًا لَمْ يَأْكُلْ وَأَطْعَمَهُ الدَّوَابَّ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ أَنَّهُ يُطْعِمُهُ الدَّجَاجَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے، یعنی وہ پانی جو جاری نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو دھو نہ لے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“
(ب) زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آٹا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جا سکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا دیا جائے۔
(ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء اور مجاہد رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ وہ ایسا آٹا مرغیوں کو کھلا دیتے تھے۔
(ب) زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آٹا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جا سکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا دیا جائے۔
(ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء اور مجاہد رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ وہ ایسا آٹا مرغیوں کو کھلا دیتے تھے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو مُوسَى إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ وَهَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ قَالَا: ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ أَرْضَ ثَمُودٍ فَاسْتَقَوْا مِنْ بِيَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَيُطْعِمُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مَنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ وَهَذَا الْمَاءُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَجِسًا فَحِينَ كَانَ مَمْنُوعًا مَنْهُ اسْتِعْمَالُهُ أَمَرَ بِإِرَاقَتِهِ وَأَمَرَ بِإِطْعَامِ مَا عُجِنَ بِهِ الْإِبِلَ وَكَذَلِكَ مَا يَكُونُ مَمْنُوعًا مَنْهُ لِنَجَاسَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقامِ حجر پر اترے، یہ ثمود کی زمین تھی۔ صحابہ نے ان کے کنوؤں سے پانی لیا اور آٹا گوندھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حاصل کردہ پانی بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا: ”وہ اس پانی کو استعمال کریں جہاں وہ اونٹنی آتی تھی۔“
(ب) یہ پانی اگرچہ نجس نہ تھا لیکن جب اس کا استعمال ممنوع تھا تو آپ ﷺ نے اسے بہانے کا حکم دیا اور اس سے گوندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا، اور یہی حکم اس چیز کا ہے جو نجاست کی وجہ سے ممنوع ہو۔
(ب) یہ پانی اگرچہ نجس نہ تھا لیکن جب اس کا استعمال ممنوع تھا تو آپ ﷺ نے اسے بہانے کا حکم دیا اور اس سے گوندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا، اور یہی حکم اس چیز کا ہے جو نجاست کی وجہ سے ممنوع ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ عَجِينٍ وَقَعَ فِيهِ قَطَرَاتٌ مَنْ دَمٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهِ قَالَ الْوَلِيدُ لِأَنَّ النَّارَ لَا تُنَشِّفُ الدَّمَ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَإِنَّمَا يَرْوِي هَذَا سُوَيْدٌ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ عَجَنَتْ لَهُمْ عَجِينًا فِي جَفْنَةٍ فَأَصَابَتْ يَدَهَا حَدِيدَةٌ فِي الْعَجْنِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَأْكُلُوهُ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَسُوَيْدٌ الَّذِي خَلَّطَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَمَرَّةً رَوَاهُ عَنْ نُوحٍ، عَنِ الْحَسَنِ وَمَرَّةً، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَعَامَّةُ حَدِيثِهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ كَمَا وَصَفُوهُ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَغَيْرَهُمْ مَنَ الْأَئِمَّةِ ضَعَّفُوا سُوَيْدًا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے آٹے کے متعلق سوال کیا گیا جس میں خون کے قطرے گر پڑے تھے تو نبی ﷺ نے اسے کھانے سے منع فرما دیا۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“
سوید نے اس حدیث کی روایت میں خلط کیا ہے، ایک مرتبہ اسے نوح سے، انہوں نے حسن سے روایت کیا اور ایک مرتبہ حمید سے، انہوں نے انس سے۔ اس کی اکثر احادیث پر ثقہ راوی اس کی متابعت نہیں کرتے اور وہ ضعیف ہے، جیسا کہ احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے نہ کھاؤ۔“
سوید نے اس حدیث کی روایت میں خلط کیا ہے، ایک مرتبہ اسے نوح سے، انہوں نے حسن سے روایت کیا اور ایک مرتبہ حمید سے، انہوں نے انس سے۔ اس کی اکثر احادیث پر ثقہ راوی اس کی متابعت نہیں کرتے اور وہ ضعیف ہے، جیسا کہ احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔