حدیث نمبر: 1117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ فَصَلَّى بِالْبَطْحَاءِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَنَصَبَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنْزَةً وَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کو نکلے، آپ ﷺ نے بطحاء نامی جگہ پر ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں ادا کیں اور اپنے آگے نیزہ گاڑا اور وضو کیا اور لوگ آپ ﷺ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو ملنے لگے۔
حدیث نمبر: 1118
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى وَاللَّفْظُ لِلثَّقَفِيِّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُونِي وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ، إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةً فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مَنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں مریض تھا تو رسول اللہ ﷺ میری تیمار داری کیا کرتے تھے، اس وقت مجھے ہوش نہیں تھا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے ہوش آگیا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری وراثت کس کے لیے ہے، میرا وارث کلالہ ہے؟“ تو فرائض کی آیت نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 1119
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، فَذَكَرَتْ غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " فَلَمَّا فَرَغَ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ مِلْحَفَةً فَأَبَى فَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ بِيَدِهِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے غسل کا تذکرہ فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو الگ ہوئے اور اپنے پاؤں کو دھویا۔ میں نے آپ ﷺ کو کپڑا دیا تو آپ ﷺ نے انکار کر دیا، آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے پانی صاف کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ ⦗٣٦٠⦘ أَنْعَمَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنَيْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهُ بِطَرْفِ ثَوْبِهِ قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ: سَأَلَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَكَتَبَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: رُبَّمَا لَمْ يَجِدْ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ الْمَنْدِيلَ فَيَمْسَحُ وَجْهَهُ بِثَوْبِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے چہرے کو کپڑے کے ایک کنارے سے صاف فرماتے۔
(ب) ابوالعباس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابورجا رحمہ اللہ سے سنا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کو لکھ دیا۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کی سند قوی نہیں۔
(ج) یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بسا اوقات محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی اپنے چہرے کو صاف کرنے کے لیے تولیہ استعمال نہیں کرتے تھے۔
(ب) ابوالعباس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابورجا رحمہ اللہ سے سنا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کو لکھ دیا۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کی سند قوی نہیں۔
(ج) یونس بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بسا اوقات محمد بن سیرین رحمہ اللہ بھی اپنے چہرے کو صاف کرنے کے لیے تولیہ استعمال نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1121
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَمِنْ أَيْنَ لَمْ يَكُنْ نَجِسًا؟ قِيلَ: مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَلَا شَكَّ أَنَّ مِنَ الْوُضُوءِ مَا يُصِيبُ ثِيَابَهُ وَلَمْ يُعْلَمْ غَسْلُ ثِيَابِهِ مَنْهُ وَلَا أَبْدَلَهَا وَلَا عَلِمْتُهُ فَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مَنَ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَعْقُولًا إِذْ لَمْ تَمَسَّ الْمَاءَ نَجَاسَةٌ أَنَّهُ لَا يَنْجُسُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کہنے والا کہے کہ کہاں سے وہ نجس نہیں ہوا؟ تو اسے کہا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور کچھ شک نہیں کہ وضو اس (پانی) سے جو کپڑے کو لگا اور اس سے کپڑا دھونے کا علم نہیں اور نہ اس نے اس کو متغیر کیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی اس کو استعمال کیا ہو۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب پانی کو نجاست نہ لگے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الرَّجُلِ يَغْتَسِلُ فِي الْإِنَاءِ فَيَنْتَضِحُ مِنَ الَّذِي يُصَبُّ عَلَيْهِ فِي الْإِنَاءِ، قَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ وَلَا يُطَهَّرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو برتن میں غسل کرتا ہے اور اسے اس پانی سے جو برتن میں ڈالا تھا چھینٹے پڑ جاتے ہیں، وہ پانی پاک ہے لیکن وہ پاک نہیں کر سکتا۔