کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس جنبی یا بے وضو شخص کا بیان جسے غسل کے لیے پانی مل جائے لیکن اسے پیاس کا خوف ہو تو وہ تیمم کر لے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " إِذَا أَجْنَبَ الرَّجُلُ فِي أَرْضٍ فَلَاةٍ وَمَعَهُ مَاءٌ يَسِيرٌ فَلْيُوثِرُ نَفْسَهُ بِالْمَاءِ وَلْيَتَيَمَّمْ بِالصَّعِيدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص وسیع میدان میں جنبی ہو جائے اور اس کے پاس پانی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے کو ترجیح دے (یعنی پینے کے لیے رکھ لے) اور مٹی سے تیمم کرے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " إِذَا أَصَابَتْكَ جَنَابَةٌ فَأَرَدْتَ أَنْ تَتَوَضَّأَ أَوْ قَالَ: تَغْتَسِلَ وَلَيْسَ مَعَكَ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا مَا تَشْرَبُ وَأَنْتَ تَخَافُ فَتَيَمَّمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تو جنبی ہو جائے اور وضو یا غسل کرنے کا ارادہ ہو، لیکن تیرے پاس پینے والے پانی کے سوا پانی نہ ہو اور تجھے جان جانے کا ڈر ہو تو تیمم کر لے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا كُنْتَ مُسَافِرًا وَأَنْتَ جُنُبٌ أَوْ أَنْتَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَخِفْتَ إِنْ تَوَضَّأْتَ أَنْ تَمُوتَ مَنَ الْعَطَشِ فَلَا تَوَضَّأْهُ وَاحْبِسْ لِنَفْسِكَ " وَرُوِّينَاهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ وَطَاوُسٍ وَغَيْرِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب تو مسافر ہو اور جنبی ہو جائے یا تو بغیر وضو کے ہو اور تجھے ڈر ہو کہ اگر تو نے پانی سے وضو کیا تو پیاس سے مر جائے گا، تو وضو نہ کر بلکہ اپنی جان بچا۔