کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صحت مند مقیم شخص فرض نماز، جنازہ اور عید کے لیے وضو کرے گا اور تیمم نہیں کرے گا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ أَحَدِكِمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " ⦗٣٥١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی، جب وہ بے وضو ہو جائے جب تک وضو نہ کر لے۔“
حدیث نمبر: 1090
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ يَعْنِي ابْنَ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ " أَبُو الْمَلِيحِ هُوَ ابْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں کرتا اور نہ ہی خیانت کیے ہوئے مال سے صدقہ قبول کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1091
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ يُونُسَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أنا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَمَرَرْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِوَضُوءٍ فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تُنَادِيهِ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مَنَ النَّارِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَزَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ فَأَمَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بِوَضُوءٍ وَقَالَتْ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھنے کے لیے نکلے، ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے گزرے تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے پانی منگوایا، میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے عبدالرحمن! مکمل وضو کرو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔““
حدیث نمبر: 1092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جُعِلَتْ لِي تُرْبَتُهَا طَهُورًا إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے اس کی مٹی وضو (کا ذریعہ) بنائی گئی ہے جب ہم پانی نہ پائیں۔“
حدیث نمبر: 1093
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَسَنِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ وَالَّذِي رُوِيَ عَنْهُ فِي التَّيَمُّمِ لِصَلَاةِ الْجِنَازَةِ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ فِي السَّفَرِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ وَفِي إِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فِي التَّيَمُّمِ ضَعْفٌ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمَعْرِفَةِ وَالَّذِي رَوَى الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ لَا يَصِحُّ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ وَهَذَا أَحَدُ مَا أَنْكَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ وَقَدْ رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَطَأٌ قَدْ بَيَّنَّاهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پاک آدمی ہی نماز جنازہ پڑھے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ، نافع رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سے نماز جنازہ کے لیے تیمم کے متعلق جو منقول ہے اس میں احتمال ہے کہ یہ سفر میں ہو جب پانی پاس نہ ہو۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تیمم والی حدیث کی سند میں ضعف ہے جسے ہم نے کتاب المعرفہ میں بیان کیا ہے۔
(د) وہ روایت جو مغیرہ بن زیاد عن عطاء رحمہ اللہ عن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے، وہ ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ یہ صرف امام عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(س) اسی طرح ابن جریج رحمہ اللہ نے امام عطاء رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے۔ اس پر امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ نے مغیرہ بن زیاد کا انکار کیا ہے۔ اس نے جو نبی ﷺ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے، یہ انتہائی سنگین غلطی ہے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ، نافع رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سے نماز جنازہ کے لیے تیمم کے متعلق جو منقول ہے اس میں احتمال ہے کہ یہ سفر میں ہو جب پانی پاس نہ ہو۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تیمم والی حدیث کی سند میں ضعف ہے جسے ہم نے کتاب المعرفہ میں بیان کیا ہے۔
(د) وہ روایت جو مغیرہ بن زیاد عن عطاء رحمہ اللہ عن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے، وہ ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ یہ صرف امام عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(س) اسی طرح ابن جریج رحمہ اللہ نے امام عطاء رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے۔ اس پر امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ نے مغیرہ بن زیاد کا انکار کیا ہے۔ اس نے جو نبی ﷺ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے، یہ انتہائی سنگین غلطی ہے۔