کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: پٹیوں اور جبیرا (ٹوٹی ہڈی پر بندھی پٹی) پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِيُّ بِأَنْطَاكِيَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مَنْا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ: هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ فَقَالُوا: مَا نَجْدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا إِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِبَ عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً، ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا اور اس کے سر میں زخم ہو گیا، پھر اس کو احتلام ہو گیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم تیمم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم تیرے لیے رخصت نہیں پاتے اس لیے کہ تو پانی (استعمال کرنے) پر قدرت رکھتا ہے۔ اس نے غسل کیا تو مر گیا۔ جب ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو اس (واقعہ) کی خبر دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے اس کو قتل کیا ہے اللہ ان کو قتل کرے، جب وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے سوال کیوں نہیں کیا، جاہل کی شفا ہی سوال کرنا ہے۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا، اپنے زخم پر کپڑا لپیٹ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1077
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
حدیث نمبر: 1078
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " إِذَا لَمْ تَكُنْ عَلَى الْجُرْحِ عَصَائِبُ غَسَلَ مَا حَوْلَهُ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب زخم پر پٹی نہ ہو تو اس کے ارد گرد کو دھو لے، لیکن زخم نہ دھوئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1078
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 1079
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ الْغَازِ أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ لَهُ جُرْحٌ مَعْصُوبٌ عَلَيْهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْعَصَائِبِ وَيَغْسِلُ مَا حَوْلَ الْعَصَائِبِ ". ⦗٣٤٩⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس شخص کو زخم ہو اور اس پر پٹی بندھی ہو تو وہ وضو کرے گا اور پٹیوں پر مسح کرے گا اور پٹیوں کے اردگرد کی جگہ دھوئے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1079
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 1080
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ إِبْهَامَ رِجْلِهِ جُرِحَتْ فَأَلْبَسَهَا مُرَارَةً وَكَانَ يَتَوَضَّأُ عَلَيْهَا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاؤں کا انگوٹھا زخمی ہو گیا، انہوں نے اس کے اوپر کوئی چیز لپیٹ لی اور اس پر مسح فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1080
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 1081
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ وَكَفُّهُ مَعْصُوبَةٌ فَمَسَحَ عَلَى الْعَصَائِبِ وَغَسَلَ سِوَى ذَلِكَ. هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ صَحِيحٌ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ انْكَسَرَ إِحْدَى زَنْدَيْ يَدَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ وَلَوْ عَرَفْتُ إِسْنَادَهُ بِالصِّحَّةِ لَقُلْتُ بِهِ يَعْنِي مَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا اور ان کی ہتھیلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی، انہوں نے اس پر اور پگڑی پر مسح کیا اور اس کے علاوہ باقی اعضا دھوئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی روایت صحیح ہے۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی گئی کہ ان کی ایک کلائی ٹوٹ گئی تو نبی ﷺ نے انہیں ”پٹیوں پر مسح کرنے“ کا حکم دیا۔ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے اس حدیث کی سند صحیح معلوم ہو جائے تو میں اس کے مطابق فتویٰ دوں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1081
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 1082
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عِمْرَانُ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " امْسَحْ عَلَى الْجَبَائِرِ " عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ مَعْرُوفٌ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ كَذَّبَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا مَنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ وَنَسَبَهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَكَانَ فِي جِوَارِنَا فَلَمَّا فُطِنَ لَهُ تَحَوَّلَ إِلَى وَاسِطَ وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ فَرَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ مِثْلَهُ وَعُمَرُ بْنُ مُوسَى مَتْرُوكٌ مَنْسُوبٌ إِلَى الْوَضْعِ وَنَعُوذُ بِاللهِ مَنِ الْخُذْلَانِ وَرُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْهُولٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلًا وَأَبُو الْوَلِيدِ ضَعِيفٌ وَلَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِيهِ حَدِيثُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ الَّذِي قَدْ تَقَدَّمَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَإِنَّمَا فِيهِ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ مَنَ التَّابِعِينَ فَمَنْ بَعْدَهُمْ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِصَابَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تو میں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پٹیوں پر مسح کرو۔“ (ب) عمرو بن خالد واسطی حدیث وضع کرنے میں معروف تھا، امام احمد، یحییٰ بن معین اور دوسرے ائمہ حدیث نے اسے کذاب کہا ہے۔ وکیع بن جراح رحمہ اللہ نے وضعِ حدیث کی طرف اسے منسوب کیا ہے۔ (ج) اس کی متابعت عمر بن موسیٰ بن وجیہ سے ہے، زید بن علی رحمہ اللہ نے بھی اس کی مثل روایت کی ہے۔ (د) عمر بن موسیٰ متروک ہے اور احادیث وضع کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس میں ان کے دھوکے سے محفوظ رکھے۔ (ر) زید بن علی رحمہ اللہ سے ایک دوسری مجہول سند سے روایت ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ (س) ابو ولید بیان کرتا ہے کہ خالد بن یزید مکی دوسری اسناد سے زید بن علی رحمہ اللہ سے اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت بیان کرتا ہے۔ ابو ولید ضعیف ہے۔ (ص) نبی ﷺ سے اس باب میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔ (ط) اس باب میں صحیح ترین حدیث عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کی ہے جو پہلے گزر چکی ہے، وہ بھی قوی نہیں۔ تابعین فقہاء اور ان کے بعد والوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پٹی پر مسح کرنا روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1082
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع۔ أخرجه ابن ماجه 657»
حدیث نمبر: 1083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، أَظُنُّهُ ابْنَ مُرَّةَ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: احْتَلَمَ صَاحِبٌ لَنَا وَبِهِ جِرَاحَةٌ وَقَدْ عَصَبَ صَدْرَهُ فَسَأَلْنَا عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، فَقَالَ: " يَغْتَسِلُ وَيَمْسَحُ الْخِرْقَةَ أَوْ قَالَ: يَمْسَحُ صَدْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
یوسف مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے ایک ساتھی کو احتلام ہو گیا اور وہ زخمی تھا، اس نے اپنے سینے پر پٹی باندھی ہوئی تھی، ہم نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: غسل کرے اور کپڑے پر مسح کرے، یا فرمایا: سینے پر مسح کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1083
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1084
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ⦗٣٥٠⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ الْخَدْشِ يَكُونُ بِالرَّجُلِ فَيَزِيدُ الْوُضُوءَ أَوْ الِاغْتِسَالَ مَنَ الْجَنَابَةِ وَقَدْ عَصَبَ عَلَيْهِ خِرْقَةً، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ يَخَافُ فَلْيَمْسَحْ عَلَى الْخِرْقَةِ وَإِنْ كَانَ لَا يَخَافُ فَلْيَغْسِلْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان تمیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے طاؤس رحمہ اللہ سے زخمی شخص کے متعلق سوال کیا کہ وہ وضو یا جنابت سے غسل کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے پٹی باندھی ہوئی ہے، تو انہوں نے فرمایا: اگر وہ ڈرتا ہے (کہ موت واقع ہو جائے گی تو) کپڑے پر مسح کر لے اور اگر نہیں ڈرتا تو غسل کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1084
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، وَمُجَاهِدَ بْنَ جَبْرٍ، وَطَاوُسًا، يَقُولُونَ فِي رَجُلٍ أَصَابَ أُصْبُعَهُ جُرْحٌ، فَقَالُوا: " يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مَنْ دَمِهِ، ثُمَّ يَعْصِبُهَا، ثُمَّ يَمْسَحُ عَلَى الْعِصَابِ إِذَا تَوَضَّأَ فَإِنْ نَفَذَ مَنْهُ الدَّمُ حَتَّى يَظْهَرَ فَلْيُبْدِلْهَا بِأُخْرَى ثُمَّ يَمْسَحُ عَلَيْهَا إِذَا تَوَضَّأَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ، مجاہد بن جبر رحمہ اللہ اور طاؤس رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جس کی انگلی زخمی ہو چکی تھی، انہوں نے فرمایا: اس کو جو خون لگا ہے اس کو دھوئے گا، پھر اس پر پٹی باندھے گا، پھر پٹی پر مسح کرے گا جب وضو کرے گا اور اگر اس سے خون جاری ہو جائے اور ظاہر ہو جائے تو دوسری پٹی بدل دے گا، پھر اس پر مسح کرے گا جب وضو کرے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1085
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 1086
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى الْبَصْرِيِّ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى الْحَسَنَ فَسَأَلَهُ وَأنا أَسْمَعُ، فَقَالَ: انْكَسَرَتْ فَخِذُهُ أَوْ سَاقُهُ فَتُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ الْحُدَيْرِ، قَالَ: كَانَ بِي جُرْحٌ شَدِيدٌ مَنَ الطَّاعُونِ وَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَسَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ، فَقَالَ: " امْسَحْ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) ہشام بن حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حسن رحمہ اللہ کے پاس آیا اور سوال کیا، میں سن رہا تھا، کہنے لگا: اس کی ران یا پنڈلی ٹوٹ گئی ہے اور وہ جنبی ہو گیا ہے تو (کیا کرے؟) آپ نے اس کو پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے طاعون کا شدید زخم تھا اور میں جنبی ہو گیا، میں نے ابو مجلز رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: مسح کر تجھے یہی کافی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1086
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 1087
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ فَقُلْتُ: انْكَسَرَتْ يَدِي وَعَلَيْهَا خِرْقَتُهَا وَعِيدَانُهَا وَجَبَائِرُهَا فَرُبَّمَا أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَقَالَ: " امْسَحْ عَلَيْهَا بِالْمَاءِ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَعْذِرُ بِالْمَعْذِرَةِ " وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: لَا تُوضَعُ الْعَصَائِبُ وَالْجَبَائِرُ عَلَى الْجُرْحِ وَالْكَسْرِ إِذَا كَانَ فِي مَوْضِعِ الْوُضُوءِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ مَوْضِعَ ذَلِكَ الْجُرْحِ لِمَا ظَهَرَ مَنْ دَمِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ میرا ہاتھ ٹوٹ گیا اور اس پر کپڑے کی باریک اور موٹی پٹی لکڑی کے ساتھ بندھی ہوتی ہے، بعض اوقات میں جنبی ہو جاتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: اس پر پانی کے ساتھ مسح کر، اللہ تعالیٰ عذر قبول فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1087
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 1088
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: لَا تُوضَعُ الْعَصَائِبُ وَالْجَبَائِرُ عَلَى الْجُرْحِ وَالْكَسْرِ إِذَا كَانَ فِي مَوْضِعِ الْوُضُوءِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ مَوْضِعَ ذَلِكَ الْجُرْحِ لِمَا ظَهَرَ مَنْ دَمِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زخم یا ٹوٹی ہوئی چیز پر پٹیاں نہیں رکھی جائیں گی، اگر یہ زخم وضو کی جگہ پر ہو، جب تک کہ نماز جیسا وضو کرے اور اس زخم کی جگہ کو دھو لے جس سے خون ظاہر ہوا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1088
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»