کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسافر کا پانی نہ ملنے پر اول وقت میں تیمم کر کے نماز پڑھنے اور آخر وقت میں پانی مل جانے پر بھی اسے نہ دہرانے کا بیان
حدیث نمبر: 1094
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: " أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ " وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: " لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ " وَرَوَاهُ غَيْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے کہ نماز کا وقت ہو گیا، ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز ادا کی، پھر انہوں نے آخری وقت میں پانی پا لیا۔ ایک نے دوبارہ نماز لوٹائی اور دوسرے نے نہیں، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اس شخص کو فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے اور تجھ کو تیری نماز کافی ہے“ اور اس شخص سے کہا جس نے وضو کیا اور دوبارہ نماز لوٹائی: ”تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 1095
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بَكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، فَذَكَرَهُ كَذَا فِي كِتَابِي عُمَيْرٌ وَالصَّوَابُ عَمِيرَةُ بْنُ أَبِي نَاجِيَةَ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمیر بن ابی ناجیہ رحمہ اللہ نے اسے نقل کیا ہے، اسی طرح عمیر رحمہ اللہ کی کتاب میں ہے اور درست یہ ہے کہ وہ عمیرہ بن ابی ناجیہ رحمہ اللہ ہیں۔
حدیث نمبر: 1096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: ذِكْرُ أَبِي سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَهْمٌ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَفِيهِ اخْتِلَافٌ ثَالِثٌ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ابو سعید رضی اللہ عنہ کا ذکر وہم ہے، وہ محفوظ نہیں بلکہ مرسل ہے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں ایک تیسرا اختلاف بھی ہے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں ایک تیسرا اختلاف بھی ہے۔
حدیث نمبر: 1097
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور پھر اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1098
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُعْشُمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: " تَيَمَّمَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ مَنَ الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعَصْرَ فَقَدِمَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلَاةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ سے ایک یا دو میل کے فاصلے پر تیمم کیا، عصر کی نماز پڑھی اور تشریف لے آئے، جب کہ سورج بلند ہو چکا تھا اور نماز دوبارہ نہیں لوٹائی۔
حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّا، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مَنَ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مَنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَذَكَرَ الْفُقَهَاءَ السَّبْعَةَ مِنَ الْمَدِينَةِ وَذَكَرَ أَشْيَاءَ مَنْ ⦗٣٥٤⦘ أَقَاوِيلِهِمْ وَفِيهَا وَكَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ تَيَمَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ وَجَدَ الْمَاءَ وَهُوَ فِي وَقْتٍ أَوْ فِي غَيْرِ وَقْتٍ فَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ لِمَا يُسْتَقْبَلُ مَنَ الصَّلَوَاتِ وَيَغْتَسِلُ، وَالتَّيَمُّمُ مَنَ الْجَنَابَةِ وَالْوُضُوءُ سَوَاءٌ " وَرُوِّينَاهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابی الزناد اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کئی فقہاء کو دیکھا جو اسی کے قائل تھے، ان میں سے سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور مدینہ کے سات فقہاء رحمہم اللہ اور کچھ اور لوگ تھے جو کہتے تھے: جس نے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر پانی پایا اور نماز کا وقت تھا یا ختم ہو چکا تھا، بہرحال اس پر نماز کا لوٹانا واجب نہیں ہے، وہ اگلی نمازوں کے لیے وضو کرے گا اور غسل کرے گا اور جنابت سے تیمم اور وضو کرنا برابر ہے۔