کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حائضہ اور نفاس والی عورت کے متعلق وارد شدہ احادیث کا بیان کہ خون بند ہونے پر پانی نہ ملنے کی صورت میں کیا ان کے لیے تیمم کافی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ⦗٣٣٣⦘ الثَّوْرِيَّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ فِي الرَّمْلِ وَفِينَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَاءُ فَيَأْتِي عَلَيْنَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لَا نَجْدِ الْمَاءَ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ " يَعْنِي التَّيَمُّمَ. هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِالْمُثَنَّى ابْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرٍو، وَالْمُثَنَّى غَيْرُ قَوِّيٍّ، وَقَدْ رَوَاهُ الْحَجَّاجُ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ، فَرَوَاهُ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَاخْتَصَرَ الْمَتْنَ فَجَعَلَ السُّؤَالَ عَنِ الرَّجُلِ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: ہم ریت (والے علاقے) میں تھے اور ہم میں حائضہ، جنبی اور نفاس والی عورتیں موجود تھیں۔ ہم پر چار ماہ ایسے آئے کہ ہم نے پانی نہیں پایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑتے یعنی تیمم کرتے۔“
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی «عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ». اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کر سکتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی «عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ». اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کر سکتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
وَرَوَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابًا أَتَوِا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَكُونُ فِي هَذِهِ الرِّمَالِ لَا نَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، وَلَا نَرَى الْمَاءَ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ أوْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ - شَكَّ أَبُو الرَّبِيعِ - وَفِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالْأَرْضِ ". أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، فَذَكَرَهُ. وَأَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ریت والے علاقے میں ہوتے ہیں، ہم پانی پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہی تین ماہ یا چار ماہ تک پانی پاتے ہیں (ابو ربیع کو شک ہے) اور ہمارے اندر نفاس والی عورتیں، حائضہ اور جنبی ہوتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمین (مٹی) کو لازم پکڑو۔“
(ب) ابو ربیع سمان ضعیف ہے۔
(ب) ابو ربیع سمان ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرَفيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ أَبَا الرَّبِيعِ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الرَّجُلِ يَعْزُبُ فِي إِبِلِهِ، فَقَالَ سُفْيَانُ: إِنَّمَا جَاءَ بِهَذَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَإِنَّمَا قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُهُ قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ شُعْبَةَ رَوَاهُ هَكَذَا عَنْ جَابِرٍ، فَقَالَ: إِنَّ شُعْبَةَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْحِفْظِ وَالصِّدْقِ وَلَمْ يَكُنْ مِمَّنْ يُرِيدُ الْبَاطِلَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ عَمْرٍو، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ
علی (بن عبداللہ) کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے کہا: ابو ربیع نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق روایت کیا ہے جو اپنے اونٹوں میں (پانی سے) دور رہتا تھا۔ سفیان نے کہا: یہ روایت تو صرف مثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے بیان کی ہے، عمرو بن دینار نے تو صرف یہ کہا تھا: میں نے جابر بن زید کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ علی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے کہا کہ شعبہ نے اس طرح جابر (بن زید) سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: شعبہ حفاظ اور اہل صدق میں سے ہے، اس کی مراد باطل نہ تھی۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ابن ابی عروبہ سے بھی عمرو بن دینار، ابن مسیب اور ابوہریرہ کے واسطے سے بیان کیا گیا ہے، حالانکہ ابن ابی عروبہ نے اسے ابو ربیع ہی سے سنا ہے، اور یہ ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا عَمْرُو بْنُ شَبَّةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الْأَفْطَسُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ الْأَعْرَابُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالُوا: إِنَّا نَكُونُ بِالرَّمْلِ، وَإِنَّا نَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ الشَّهْرَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَفِينَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالتُّرَابِ ". عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الْأَفْطَسُ ضَعِيفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہم ریت والی جگہ میں ہوتے ہیں اور ہم پانی سے دو تین ماہ دور رہتے ہیں اور ہمارے اندر جنبی اور حائضہ ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑو۔“
عبداللہ بن سلمہ افطس ضعیف ہے۔
عبداللہ بن سلمہ افطس ضعیف ہے۔