کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جنبی کو پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کا کافی ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ⦗٣٣٢⦘ الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ الْخُزَاعِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ: " يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْقَوْمِ؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءٌ فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو الگ بیٹھا ہوا تھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں! کس چیز نے تم کو منع کیا تھا کہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا اور پانی نہیں تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑو، وہ تمہیں کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 1035
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: تَذْكُرُ إِذْ كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ وَأَجْنَبْنَا فَتَمَرَّغْنَا فِي التُّرَابِ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا " وَوَصَفَ ذَلِكَ يَعْنِي التَّيَمُّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي أَكْثَرِ النُّسَخِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہیں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کو یاد ہے جب ہم ایک سریہ میں تھے، ہم جنبی ہو گئے تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر ہم نبی ﷺ کے پاس آئے، ہم نے یہ بات آپ ﷺ سے ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ کو اس طرح کافی تھا“ اور تیمم کا طریقہ بیان کیا۔
حدیث نمبر: 1036
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ: أَجْنَبْتُ فِي الرَّمْلِ فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: " كَانَ يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ”رمل“ جگہ میں جنبی ہو گیا تو میں چوپائے کی طرح لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نبی ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ ﷺ کو خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ کو تیمم کافی تھا۔“
حدیث نمبر: 1037
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، أنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَلَيْسَ هُوَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُسَافِرِ {وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا} [النساء: ٤٣]، قَالَ: " إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ تَيَمَّمَ وَصَلَّى حَتَّى يُدْرِكَ الْمَاءَ، فَإِذَا أَدْرَكَ الْمَاءَ اغْتَسَلَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا﴾ [سورة النساء: 43] مسافر کے متعلق نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص جنبی ہو جائے اور وہ پانی نہ پائے تو تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ جب پانی مل جائے تو غسل کر لے۔“