کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس آدمی کا بیان جو پانی سے دور ہو اور اس کی بیوی اس کے ساتھ ہو، تو اگر چاہے اس سے صحبت کرے اور پھر تیمم کر لے
حدیث نمبر: 1042
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَهَمَّنِي دِينِي فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ فَقَالَ لِيَ: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قلابہ رضی اللہ عنہ بنی عامر قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو میرے دین نے مجھے فکر میں ڈال دیا، میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: مدینہ کی آب و ہوا کو میں نے اپنے لیے ناموافق پایا، مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے اونٹ اور بکریوں کا حکم دیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا پیشاب پیو۔“ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، میں جنبی ہو گیا تو میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، میں دوپہر کو نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ میں نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میری بیوی میرے ساتھ تھی، میں جنبی ہو گیا۔ میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، سیاہ رنگ کی لونڈی برتن لے کر آئی جس میں پانی چھلک رہا تھا۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں پردہ کیا اور غسل کیا، پھر میں آیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تجھے دس سال بھی پانی نہ ملے۔ جب پانی مل جائے تو اسے اپنے جسم پر ڈالو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1042
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 333»
حدیث نمبر: 1043
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُصِيبُ أَهْلَهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". وَمِثْلُ هَذَا بِالشَّوَاهِدِ يَقْوَى وَحَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّابِتُ عَنْهُمَا شَاهِدٌ لِهَذَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”کوئی شخص کسی دور جگہ میں ہو جہاں پانی نہ ہو تو کیا وہ اپنی بیوی سے جماع کرلے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1043
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه احمد 2/225»
حدیث نمبر: 1044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي أَفَأُصِيبُ مِنْهَا؟، قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ أَشْهُرٌ فَقَالَ: " وَإِنْ مَكَثْتَ ثَلَاثَ سِنِينَ ". يُقَالُ عَمُّهُ حَكِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النُّمَيْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن حکیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں پانی سے دور ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میری اہلیہ ہوتی ہے، کیا میں اس سے جماع کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کئی مہینے غائب رہتا ہوں (یعنی گھر سے باہر رہتا ہوں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ تو تین سال بھی رہے۔“ اس کے چچا کا نام حکیم بن معاویہ نمیری رضی اللہ عنہ تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1044
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 1045
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ أَصَابَ مِنْ جَارِيَتِهِ، وَأَنَّهُ تَيَمَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ وَهُوَ مُتَيَمِّمٌ ". ⦗٣٣٥⦘ وَأَمَّا غَسْلُ الْفَرْجِ وَالْكَلَامُ فِي رُطُوبَةِ فَرْجِ الْمَرْأَةِ فَقَدْ نَقَلْنَاهُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ فِي بَابِ الْأَنْجَاسِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی لونڈی کے پاس گئے، پھر انہوں نے تیمم کیا اور تیمم کی حالت میں ہی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1045
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1/36»