کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وضو اور غسل کرنے والے کے لیے طہارت کے پانی کی کوئی متعین مقدار نہ ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوُضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ ⦗٢٩٨⦘ وُجُوهٍ أُخَرَ عَنْ مَالِكٍ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا تو انھیں پانی نہ ملا، رسول اللہ ﷺ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ ﷺ نے برتن میں اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ”وہ اس سے وضو کریں“۔ راوی کہتا ہے: میں نے پانی دیکھا جو آپ ﷺ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا، لوگوں نے وضو کیا حتی کہ آخری شخص نے بھی وضو کر لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَيَّاشٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے ہشام سے ایک دوسری سند سے روایت کی ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے ہشام سے ایک دوسری سند سے روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَذَلِكَ الْقَدَحُ يَوْمَئِذٍ يُدْعَى الْفَرَقَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: مِنْ قَدَحٍ يُقَالُ لَهُ الْفَرَقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔ ان دنوں پیالے کو «الفَرَقُ» ”فرق“ کہا جاتا تھا۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں آدم بن ابی ایاس سے ابن ابی ذئب کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ پیالے کو «الفَرَقُ» ”فرق“ کہا جاتا تھا۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں آدم بن ابی ایاس سے ابن ابی ذئب کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ پیالے کو «الفَرَقُ» ”فرق“ کہا جاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، أنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ عَنِ اللَّيْثِ. وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس پیالے میں غسل کرتے تھے اسے «الْفَرَقُ» ”فرق“ کہا جاتا تھا، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔
وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِيهِ قَدْرُ الْفَرَقِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مُضَافًا إِلَيْهِ دُونَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور اس میں «فَرَق» (ایک برتن کا نام ہے) کے برابر پانی آتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ هُوَ الْفَرَقُ مِنَ الْجَنَابَةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسلِ جنابت ایک برتن سے کرتے تھے، اسے «فَرَق» کہا جاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ الْفَرَقُ " قَالَ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَحْسَبُهُ خَمْسَةَ أَقْسَاطٍ قَالَ أَبُو عَمْرٍو: الْقِسْطُ أَرْبَعَةُ أَرْطَالٍ وَرَوَاهُ غَيْرُهُ أَيْضًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ هَكَذَا. وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: قَالَ قُتَيْبَةُ، قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ: الْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَهُ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: الْفَرَقُ سِتَّةَ عَشَرَ رَطْلًا، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ قِيلَ فَمَنْ؟ قَالَ: ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ، قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بِالْمُدِّ وَاغْتَسَلَ بِالصَّاعِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور وہ (برتن) فرق ہوتا تھا۔ (ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی مقدار پانچ اقساط ہے۔ (ج) ابو عمرو کہتے ہیں کہ قسط چار رطل کا ہوتا ہے۔ (د) ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: فرق میں تین صاع پانی آتا تھا۔ (ر) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا تھا۔ اور (امام احمد رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: ابن ابی ذئب کا صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہے۔ جس شخص نے آٹھ رطل کہا، اس کی روایت محفوظ نہیں۔ (س) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مد کے ساتھ وضو اور ایک صاع کے ساتھ غسل کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً قَالُوا: أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنِ ابْنِ جَبْرٍ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ جَبْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ وَكَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ ". ⦗٣٠٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک صاع سے پانچ مد تک غسل کرتے تھے اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ "،.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک مکوک سے وضو کرتے تھے اور پانچ مکوک سے غسل کرتے تھے۔
وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَغَيْرُهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِهِمَا عَنْهُ فِي الصَّحِيحِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنْ لَا وَقْتَ فِيهِ إِلَّا كَمَالُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ مَعَ أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْجُنُبِ: " فَإِنْ وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ " بِغَيْرِ تَوْقِيتِ شَيْءٍ مِنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى هَذَا الْحَدِيثُ، وَسَيَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
یہ روایت بھی اسی طرح ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی مقدار مقرر نہیں سوائے اس کے کہ غسل مکمل ہو، واللہ اعلم۔ (ج) نبی ﷺ سے جنبی کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ ”جب تجھے پانی مل جائے تو اس کو اپنے جسم پر بہا۔“ اس میں بھی کسی مقدار کی تعیین نہیں ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث گزر چکی ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی اس کا ذکر آئے گا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی مقدار مقرر نہیں سوائے اس کے کہ غسل مکمل ہو، واللہ اعلم۔ (ج) نبی ﷺ سے جنبی کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ ”جب تجھے پانی مل جائے تو اس کو اپنے جسم پر بہا۔“ اس میں بھی کسی مقدار کی تعیین نہیں ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث گزر چکی ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی اس کا ذکر آئے گا۔