السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: لا وقت فيما يتطهر به المتوضئ والمغتسل باب: وضو اور غسل کرنے والے کے لیے طہارت کے پانی کی کوئی متعین مقدار نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 931
وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَغَيْرُهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِهِمَا عَنْهُ فِي الصَّحِيحِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنْ لَا وَقْتَ فِيهِ إِلَّا كَمَالُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ مَعَ أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْجُنُبِ: " فَإِنْ وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ " بِغَيْرِ تَوْقِيتِ شَيْءٍ مِنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى هَذَا الْحَدِيثُ، وَسَيَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.حافظ ثناء اللہ
یہ روایت بھی اسی طرح ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی مقدار مقرر نہیں سوائے اس کے کہ غسل مکمل ہو، واللہ اعلم۔ (ج) نبی ﷺ سے جنبی کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ ”جب تجھے پانی مل جائے تو اس کو اپنے جسم پر بہا۔“ اس میں بھی کسی مقدار کی تعیین نہیں ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث گزر چکی ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی اس کا ذکر آئے گا۔