السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: لا وقت فيما يتطهر به المتوضئ والمغتسل باب: وضو اور غسل کرنے والے کے لیے طہارت کے پانی کی کوئی متعین مقدار نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 930
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ "،.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک مکوک سے وضو کرتے تھے اور پانچ مکوک سے غسل کرتے تھے۔ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں وقت کی تعیین نہیں ہے۔ (ج) نبی ﷺ سے جنبی کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ ”جب تجھے پانی مل جائے تو اس کو اپنے جسم پر بہا۔“ اس میں وقت کی تعیین نہیں ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث گزر چکی ہے اور آگے بھی اس کا ذکر آئے گا۔