کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جنبی کا خطمی (بال دھونے والی جڑی بوٹی) سے اپنا سر دھونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ سُوَاءَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ " يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ فَمَحْمُولٌ عَلَى مَا لَوْ كَانَ الْمَاءُ غَالِبًا عَلَى الْخِطْمِيِّ وَكَانَ غَسْلُ رَأْسِهِ بِنِيَّةِ الطَّهَارَةِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَكَذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنا سر خطمی بوٹی سے دھوتے تھے، جب آپ ﷺ جنبی ہوتے تھے تو یہی کفایت کرجاتا تھا اور اس پر پانی نہیں بہاتے تھے۔
(ب) یہ روایت اگر ثابت ہو تو اس پر محمول ہے کہ جب خطمی بوٹی پانی پر غالب ہو اور آپ ﷺ اپنا سر غسل جنابت کی نیت سے دھوتے تھے۔
(ب) یہ روایت اگر ثابت ہو تو اس پر محمول ہے کہ جب خطمی بوٹی پانی پر غالب ہو اور آپ ﷺ اپنا سر غسل جنابت کی نیت سے دھوتے تھے۔
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: ⦗٢٨٢⦘ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْأَزْمَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: " إِذَا غَسَلَ الْجُنُبُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ فَلَا يَعْدِلُهُ غُسْلًا ". وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
حارث بن ازمع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: جب جنبی اپنا سر خطمی بوٹی سے دھوئے تو اس کو غسل شمار نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخِطْمِيٍّ وَهُوَ جُنُبٌ فَقَدْ أَجْزَأَ، وَلْيَغْسِلْ سَائِرَ جَسَدِهِ ". وَخَالَفَهُ أَبُو عَوَانَةَ. فَرَوَاهُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ. وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ شَيْبَانَ. كَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ يَعْقُوبُ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: الْحَدِيثُ حَدِيثُ سُفْيَانَ. وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانُوا يَغْسِلُونَ رُءُوسَهُمْ بِالسِّدْرِ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَمْكُثُ أَحَدُهُمْ سَاعَةً، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو اپنا سر خطمی بوٹی سے دھوئے اور وہ جنبی ہو تو یہ اس کو کفایت کر جائے گا اور پھر وہ اپنے سارے جسم کو دھوئے۔
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حدیثِ سفیان سب سے قوی ہے۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو جنابت کی وجہ سے بیری کے پتوں سے دھوتے تھے، پھر کچھ دیر کے لیے رک جاتے، پھر غسلِ جنابت کرتے۔
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حدیثِ سفیان سب سے قوی ہے۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے سروں کو جنابت کی وجہ سے بیری کے پتوں سے دھوتے تھے، پھر کچھ دیر کے لیے رک جاتے، پھر غسلِ جنابت کرتے۔