کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کا اپنی مینڈھیاں نہ کھولنے کا بیان جب اسے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو
حدیث نمبر: 856
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي - أَوْ قَالَتْ - عَقْصَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِلْجَنَابَةِ وَالْحَيْضَةِ، قَالَ: " لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تُفْرِغِي عَلَيْكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ قَدْ طَهُرْتِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی مینڈھیوں کو سختی سے باندھتی ہوں یا فرمایا: کیا اپنے سر کی لٹوں کو میں حیض اور جنابت (سے غسل) کے لیے کھولوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! یہی کافی ہے کہ اپنے اوپر تین چلو پانی ڈال لو، پھر یقیناً تو پاک ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 857
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ⦗٢٨٠⦘ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَكَيْفَ أَصْنَعُ حِينَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: " احْفِنِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِي أَثَرَ كُلِّ حَفْنَةٍ " وَقَصَّرَ بِإِسْنَادِهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فِي رِوَايَةِ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْهُ أَنَّ سَعِيدًا سَمِعَهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابو سعید مقبری نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور میں بھی آپ ﷺ کے پاس تھی، اس نے کہا: میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں، جب میں غسل جنابت کروں تو کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے پھر ہر چلو کے نشان پر چھینٹے مار۔“
حدیث نمبر: 858
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَكَيْفَ أَصْنَعُ إِذَا اغْتَسَلْتُ؟ قَالَ: " احْفِنِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِيهِ عَلَى أَثَرِ كُلِّ حَفْنَةٍ يَكْفِيكِ ". وَرِوَايَةُ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ حَفِظَ فِي إِسْنَادِهِ مَا لَمْ يَحْفَظْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابو سعید مقبری نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں، جب میں غسل کروں تو کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے، پھر ہر چلو کے نشان پر چھینٹے مار، تجھے کفایت کر جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 859
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَعْبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُؤُسَهُنَّ فَقَالَتْ: " يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُؤَسَهُنَّ، لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عورتوں کو حکم دیتے تھے کہ جب وہ غسل کریں تو اپنے سروں کو کھولیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تعجب ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے کہ وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتے کہ وہ اپنے سروں کو منڈوا لیں۔ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو ڈالنے سے زیادہ نہیں کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 860
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنَّا نَغْتَسِلُ وَعَلَيْنَا الضِّمَادُ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُحِلَّاتٌ وَمُحْرِمَاتٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ہم غسل کرتی تھیں اور ہمارے اوپر لیپ ہوتا تھا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حلال اور محرمہ ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: " وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَةُ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَكُونُ مُمْتَشِطَةً، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِكَ، وَلَكِنَّهَا تَحْفِنُ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، فَإِذَا رَأَتِ الْبَلَلَ عَلَى أُصُولِ الشَّعْرِ دَلَكَتْهُ، ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن بکار اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”ہم میں سے کوئی ایک جب غسل کرتی اور کنگھی کی ہوتی تو اسے کھولتی نہیں تھی، لیکن اپنے سر میں تین چلو پانی ڈال لیتی تھی۔ جب وہ بالوں کی جڑوں میں تری کو دیکھتی تو اسے مل لیتی، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہا لیتی تھی۔“
حدیث نمبر: 862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِعُمْرَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَيْضِهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أَطْهُرْ بَعْدُ، وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِالْعُمْرَةِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ " فَقَالَتْ: فَفَعَلْتُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَهِيَ أَنِ اغْتَسَلَتْ لِلْإِهْلَالِ بِالْحَجِّ وَكَانَ غُسْلُهَا غُسْلًا مَسْنُونًا وَقَدْ أُمِرَتْ فِيهِ بِنَقْضِ رَأْسِهَا وَامْتِشَاطِ شَعْرِهَا وَكَأَنَّهَا أُمِرَتْ بِذَلِكَ اسْتِحْبَابًا كَمَا أُمِرَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِالْغُسْلِ لِلْإِهْلَالِ عَلَى النِّفَاسِ اسْتِحْبَابًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرے کا احرام باندھا، پھر وہ اپنے حیض والی حدیث بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ عرفہ کا دن ہے میں اس کے بعد پاک نہیں ہوئی، میں نے عمرے سے فائدہ اٹھایا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کر اور حج کا احرام باندھ اور عمرے سے رک جا۔“ انہوں نے کہا: میں نے ایسے ہی کیا۔
(ب) ان کا غسل حج کے تلبیہ کے لیے تھا اور غسل مسنون تھا، اس میں انہیں سر کھولنے اور کنگھی کرنے کا حکم مستحب تھا۔ جیسے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو نفاس میں غسل کا حکم مستحب تھا۔
(ب) ان کا غسل حج کے تلبیہ کے لیے تھا اور غسل مسنون تھا، اس میں انہیں سر کھولنے اور کنگھی کرنے کا حکم مستحب تھا۔ جیسے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو نفاس میں غسل کا حکم مستحب تھا۔
حدیث نمبر: 863
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اغْتَسَلَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ حَيْضِهَا نَقَضَتْ شَعْرَهَا، وَغَسَلَتْ بِالْخِطْمِيِّ وَالْأُشْنَانِ، وَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ لَمْ تَنْقُضْ رَأْسَهَا، وَلَمْ تَغْسِلْ بِالْخِطْمِيِّ وَالْأُشْنَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عورت اپنے حیض سے غسل کرے تو اپنے بالوں کو کھولے اور خطمی اور اشنان بوٹی سے دھوئے اور جب غسل جنابت کرے تو اپنے سر کو نہ کھولے اور نہ اس کو خطمی اور اشنان بوٹی سے دھوئے۔“