کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حیض کے غسل کے وقت عورت کے لیے خوشبو استعمال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 867
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْحَيْضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، وَقَالَ: " خُذِي فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا "، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: " تَطَهَّرِي بِهَا "، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَتْ: فَاسْتَتِرِي يَعْنِي هَكَذَا. وَحَكَى أَبُو عُثْمَانَ يَعْنِي سَعْدَانَ بِأَصَابِعِهِ الْأَرْبَعِ. قَالَ: وَحَكَى سُفْيَانُ فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ تَطَهَّرِي بِهَا ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاجْتَذَبْتُهَا إِلِيَّ فَقُلْتُ: تَتْبَعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ، وَالرُّوذْبَارِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرُهُمَا حِكَايَةَ أَبِي عُثْمَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حیض کے غسل کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ تو کس طرح غسل کرے گی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کستوری کا ایک پھایا لے اس سے طہارت حاصل کر۔“ اس نے کہا: میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے طہارت حاصل کر۔“ اس نے کہا: میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ کہتی ہیں: پھر آپ ﷺ نے اس طرح کرنے سے مجھ سے پردہ کیا اور سعدان نے اس کی وضاحت چار انگلیوں سے بیان کی اور فرمایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! اس سے طہارت حاصل کر۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس کو اپنی طرف کھینچا اور کہا: اس کو خون کے نشان پر رکھ لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 867
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 308»
حدیث نمبر: 868
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا فَإِنَّهَا تُحِدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا، إِلَّا أَدْنَى طُهْرِهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا، نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ " مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے مگر اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ منائے گی، اور رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے مگر عام روئی کے کپڑے، اور نہ سرمہ لگائے، اور نہ مہندی لگائے، اور اپنے طہر کے قریبی زمانے میں خوشبو نہ لگائے، جب حیض سے پاک ہو جائے تو ایک روئی کا ٹکڑا یا ناخن کے برابر خوشبو لگا لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 868
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 307»
حدیث نمبر: 869
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلُ، وَلَا نَتَطَيَّبُ، وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصَبٍ، وَقَدْ رَخَّصَ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَجَبِيِّ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ كِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”ہم کو منع کیا جاتا تھا کہ ہم میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائیں، مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن؛ اس دوران نہ ہم سرمہ لگاتی تھیں اور نہ خوشبو لگاتی تھیں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنتی تھیں، مگر عام روئی کا لباس، اور طہر میں رخصت دی گئی کہ جب کوئی عورت اپنے حیض سے غسل کرتی تو «نُبْذَةً مِنْ قُسْطِ أَظْفَارٍ» ”ایک روئی کا ٹکڑا یا ناخن کے برابر خوشبو“ استعمال کر لیتی تھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 869
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 307»