أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الطُّوسِيُّ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ أَبِي صَخْرَةَ، أنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ، أَوْ رُفْغَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " وَفِي رِوَايَةِ الطُّوسِيِّ: " أَوْ رُفْغَيْهِ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ هِشَامٍ وَوَهِمَ فِي ذِكْرِهِ الْأُنْثَيَيْنِ وَالرِّفْغِ وَإِدْرَاجِهِ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ الثِّقَاتُ عَنْ هِشَامٍ، مِنْهُمْ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنی شرمگاہ یا خصیتین یا میل جمع ہونے کی جگہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔“
(ب) طوسی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”یا اپنی بغلوں کو چھوئے تو وہ نماز جیسا وضو کرے۔“
(ب) طوسی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”یا اپنی بغلوں کو چھوئے تو وہ نماز جیسا وضو کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ السَّرَّاجُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ: " إِذَا مَسَّ رِفْغَيْهِ أَوْ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ فَلْيَتَوَضَّأْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔“
عروہ کہتے تھے کہ ”جو میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتین یا شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔“
عروہ کہتے تھے کہ ”جو میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتین یا شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبِي يَقُولُ: " إِذَا مَسَّ رِفْغَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ فَرْجَهُ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ ". وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ وَهْمٌ ⦗٢١٧⦘ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ: " وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا وُضُوءَ فِي الْمَسِّ وَإِنَّمَا اتَّبَعْنَا السُّنَّةَ فِي إِيجَابِهِ بِمَسِّ الْفَرْجِ فَلَا يَجِبُ بِغَيْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کے والد فرماتے تھے: جب کوئی شخص اپنی میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتیں یا اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرے۔
(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(ج) قیاس یہ ہے کہ مس جب کپڑے کے اوپر سے ہو تو اس سے وضو نہیں ہے اور ہم نے سنت کی اتباع کی ہے کہ شرمگاہ کو چھوئے بغیر وضو واجب نہیں۔
(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(ج) قیاس یہ ہے کہ مس جب کپڑے کے اوپر سے ہو تو اس سے وضو نہیں ہے اور ہم نے سنت کی اتباع کی ہے کہ شرمگاہ کو چھوئے بغیر وضو واجب نہیں۔