السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: في مس الأنثيين باب: خصیوں کو چھونے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 654
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبِي يَقُولُ: " إِذَا مَسَّ رِفْغَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ فَرْجَهُ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ ". وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ وَهْمٌ ⦗٢١٧⦘ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ: " وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا وُضُوءَ فِي الْمَسِّ وَإِنَّمَا اتَّبَعْنَا السُّنَّةَ فِي إِيجَابِهِ بِمَسِّ الْفَرْجِ فَلَا يَجِبُ بِغَيْرِهِ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کے والد فرماتے تھے: جب کوئی شخص اپنی میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتیں یا اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرے۔
(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(ج) قیاس یہ ہے کہ مس جب کپڑے کے اوپر سے ہو تو اس سے وضو نہیں ہے اور ہم نے سنت کی اتباع کی ہے کہ شرمگاہ کو چھوئے بغیر وضو واجب نہیں۔