کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہاتھ کی پشت سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الْأُشْنَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسَ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ وُضُوءُ الصَّلَاةِ " وَهَكَذَا رَوَاهُ مَعْنُ بْنُ عِيسَى وَجَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ، فَقَالَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ أَصْلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جائے اس کے درمیان پردہ نہ ہو تو اس پر نماز کا وضو واجب ہے۔“
(ب) یزید بن عبدالملک پر کلام کیا گیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یزید بن عبدالملک نوفلی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ کے ایک شیخ ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی اصل موجود ہے۔
(ب) یزید بن عبدالملک پر کلام کیا گیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یزید بن عبدالملک نوفلی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ کے ایک شیخ ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی اصل موجود ہے۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي وَهْبٍ، سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: " مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ " هَكَذَا مَوْقُوفٌ وَقِيلَ، عَنْ جَمِيلٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جس شخص کا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگ جائے تو وہ وضو کرے۔“ یہ روایت موقوف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جمیل ابو وہب سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي ⦗٢١٢⦘ وَهْبٍ، عَنْ جَمِيلٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَمَنْ مَسَّهُ يَعْنِي مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے اور جس نے کپڑے کے اوپر سے چھوا اس پر وضو نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ " وَزَادَ ابْنُ نَافِعٍ فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَسَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ يَرْوُونَهُ لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ جَابِرًا، وَزَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْإِفْضَاءُ بِالْيَدِ إِنَّمَا هُوَ بِبَطْنِهَا، كَمَا يُقَالُ أَفْضَى بِيَدِهِ مَبَايِعًا، وَأَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا، وَإِلَى رُكْبَتَيْهِ رَاكِعًا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی شخص کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جائے تو وہ وضو کر لے۔“
(ب) دوسری روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے حفاظ سے سنا، لیکن انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
(ب) دوسری روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے حفاظ سے سنا، لیکن انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: " وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ أَوْ مُضْغَةٌ مِنْكَ " فَهَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ مُلَازِمُ بْنُ عُمَرَ وَهَكَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِيُّ: مُلَازِمٌ فِيهِ نَظَرٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ طَلْقًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَهُ. وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ أَمْثَلُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ قَيْسٍ، وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي تَعْدِيلِهِ، غَمَزَهُ ⦗٢١٣⦘ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ جِدًّا، وَأَمَّا قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، فَقَدْ رَوَى الزَّعْفَرَانِيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْنَا عَنْ قَيْسٍ فَلَمْ نَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ بِمَا يَكُونُ لَنَا قَبُولُ خَبَرِهِ وَقَدْ عَارَضَهُ مَنْ وَصَفْنَا ثِقَتَهُ وَرَجَاحَتَهُ فِي الْحَدِيثِ وَتَثَبُّتَهُ فِيمَا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجَّا الْحَافِظُ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ: فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قَالَ: ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، سَأَلْتُ أَبِي، وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ هَذَا فَقَالَا: قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ مِمَّنْ تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ، وَوَهَّنَاهُ وَلَمْ يُثَبِّتَاهُ، ثُمَّ إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَحَّ فِي ابْتِدَاءِ الْهِجْرَةِ حِينَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي مَسْجِدَهُ، وَسَمَاعُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ مِمَّنْ رُوِّينَا عَنْهُ فِي ذَلِكَ كَانَ بَعْدَهُ وَهُوَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم وفد کی شکل میں نبی ﷺ کے پاس آئے، ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، ایک دیہاتی شخص آیا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو اس کے جسم کا ایک حصہ یا ٹکڑا ہے۔“ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ محمد بن جابر یمامی اور ایوب بن عتبہ قیس بن طلق سے روایت کرتے ہیں اور دونوں ضعیف ہیں۔
ابوبکر احمد بن اسحاق صبغی نے کہا: ملازم کے بارے میں نظر ہے۔ عکرمہ بن عمار نے اسے قیس سے مرسل روایت کیا ہے، اور وہ قیس سے روایت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، لیکن ان کی تعدیل میں اختلاف ہے: یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل نے ان پر جرح کی ہے اور امام بخاری نے انہیں سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ رہے قیس بن طلق، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے قیس کے بارے میں پوچھا تو ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو انہیں اس طرح جانتا ہو کہ ہم ان کی روایت قبول کر سکیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا: قیس بن طلق کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے کہا: قیس بن طلق ان میں سے نہیں جن سے حجت قائم ہو، اور انہوں نے اسے کمزور قرار دیا اور ثابت نہیں مانا۔
ابوبکر احمد بن اسحاق صبغی نے کہا: ملازم کے بارے میں نظر ہے۔ عکرمہ بن عمار نے اسے قیس سے مرسل روایت کیا ہے، اور وہ قیس سے روایت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، لیکن ان کی تعدیل میں اختلاف ہے: یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل نے ان پر جرح کی ہے اور امام بخاری نے انہیں سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ رہے قیس بن طلق، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے قیس کے بارے میں پوچھا تو ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو انہیں اس طرح جانتا ہو کہ ہم ان کی روایت قبول کر سکیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا: قیس بن طلق کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے کہا: قیس بن طلق ان میں سے نہیں جن سے حجت قائم ہو، اور انہوں نے اسے کمزور قرار دیا اور ثابت نہیں مانا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ فَقَالَ: " اخْلِطِ الطِّينَ فَإِنَّكَ أَعْلَمُ بِخَلْطِهِ " فَسَأَلْتُهُ أَوْ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ ⦗٢١٤⦘ الرَّجُلَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَمَسُّ ذَكَرَهُ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ ". ثُمَّ قَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَلَى مَسِّهِ إِيَّاهُ بِظَهْرِ كَفِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن طلق اپنے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ مسجد بنا رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مٹی کو ملاؤ، یہ کام تم زیادہ جانتے ہو۔“ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا یا کسی شخص نے پوچھا: آپ ﷺ کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو وضو کرتا ہے پھر اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرے بدن ہی کا حصہ ہے۔“
پھر ہمارے بعض اصحاب نے اس کو اپنی ہتھیلی کے ظاہری حصے کے چھونے پر محمول کیا ہے۔
پھر ہمارے بعض اصحاب نے اس کو اپنی ہتھیلی کے ظاہری حصے کے چھونے پر محمول کیا ہے۔
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ لَنَا مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُهُ فَقَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي فَذَهَبْتُ أَحُكُّ فَخِذِي، فَأَصَابَتْ يَدِي ذَكَرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ " وَالظَّاهِرُ مِنْ حَالِ مَنْ يَحُكُّ فَخِذَهُ وَأَصَابَتْ يَدُهُ ذَكَرَهُ أَنَّهُ إِنَّمَا يُصِيبُهُ بِظَهْرِ كَفِّهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن طلق اپنے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا یا کسی شخص نے سوال کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اس دوران میں اپنی ران پر خارش کرنا شروع ہوا تو میرا ہاتھ میری شرم گاہ کو لگ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرا ہی حصہ ہے۔“ (ب) جو شخص اپنی ران پر خارش کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ شرم گاہ کو لگ جائے تو اس کی ظاہری حالت یہی ہے کہ ہاتھ کی پشت ہی لگتی ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ الْعَدْلُ الْحَافِظُ بِمَرْوَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَتَقَلَّدَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَوْلَ الْكُوفِيِّينَ وَقَالَ بِهِ، وَاحْتَجَّ ابْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدُ إِسْنَادَ بُسْرَةَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَرْسَلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْ ذَلِكَ عُرْوَةَ حَتَّى أَتَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا، وَشَافَهَتْهُ بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: وَلَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَأَنَّهُ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ: أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ قَالَ: فَقَالَ يَحْيَى: هَذَا عَمَّنْ؟ فَقَالَ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: نَعَمْ وَلَكِنَّ أَبَا قَيْسٍ الْأَوْدِيَّ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ فَقَالَ: عَلِيٌّ: حَدَّثَنِي أَبُو ⦗٢١٥⦘ نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ: لَا أُبَالِي مَسَسْتُهُ أَوْ أَنْفِي فَقَالَ يَحْيَى: بَيْنَ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَفَازَةٌ..
حافظ ثناء اللہ
محدث رجاء بن مرجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور یحییٰ بن معین رحمہم اللہ مسجدِ خیف میں جمع ہوئے، وہاں مسِ ذکر پر بحث و مباحثہ ہوا (کہ اس پر وضو ہے یا نہیں) تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: اس سے وضو ہے۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کوفیوں کے قول کی تقلید کی۔ ابن معین رحمہ اللہ کی دلیل سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے اور علی بن مدینی رحمہ اللہ کی دلیل قیس بن طلق کی روایت ہے اور انھوں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ بسرہ رضی اللہ عنہا کی سند کو کیسے قبول کریں گے جبکہ مروان بن حکم نے تو ایک سپاہی بھیجا تھا جو ان کا جواب مروان کے پاس لایا تھا، تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر عروہ نے اس پر بس نہیں کی، یہاں تک کہ وہ سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے روبرو انہیں حدیث سنائی، پھر یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں نے قیس بن طلق پر بہت کلام کیا ہے اور اس کی حدیث قابلِ حجت نہیں۔ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: دونوں باتیں ویسے ہی ہیں جیسے تم دونوں نے کہیں۔
یحییٰ نے کہا: مالک، نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”اس سے وضو نہیں ہے، وہ تو تیرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“ یحییٰ نے کہا: یہ کس سے مروی ہے؟ تو انھوں نے کہا: سفیان، ابوقیس اور ہزیل کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور جب ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کسی بات میں اختلاف کریں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی پیروی زیادہ لائق ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ہاں، لیکن ابوقیس اودی کی حدیث قابلِ حجت نہیں۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا: مجھے ابونعیم نے مسعر سے، انہوں نے عمیر بن سعید سے اور انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اسے چھوؤں یا اپنی ناک کو۔“ یحییٰ نے کہا: عمیر بن سعید اور عمار بن یاسر کے درمیان بڑا فاصلہ ہے (یعنی سند منقطع ہے)۔
یحییٰ نے کہا: مالک، نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”اس سے وضو نہیں ہے، وہ تو تیرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“ یحییٰ نے کہا: یہ کس سے مروی ہے؟ تو انھوں نے کہا: سفیان، ابوقیس اور ہزیل کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور جب ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کسی بات میں اختلاف کریں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی پیروی زیادہ لائق ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ہاں، لیکن ابوقیس اودی کی حدیث قابلِ حجت نہیں۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا: مجھے ابونعیم نے مسعر سے، انہوں نے عمیر بن سعید سے اور انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اسے چھوؤں یا اپنی ناک کو۔“ یحییٰ نے کہا: عمیر بن سعید اور عمار بن یاسر کے درمیان بڑا فاصلہ ہے (یعنی سند منقطع ہے)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَبَعْضِ مَعْنَاهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فِي حَدِيثِ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارٍ فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارٌ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا، وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِ بُسْرَةَ: سَمَاعُ عُرْوَةَ مِنْهَا كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَكَأَنَّهُ رَجَعَ فِي ذَلِكَ إِلَى قَوْلِ يَحْيَى وَتَقْلِيدِ حَدِيثِ بُسْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن یحییٰ قاضی سرخسی رحمہ اللہ نے اسی سند سے اس حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ (ب) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں صحابی رسول ہیں، جو چاہے عمار رضی اللہ عنہ کی روایت کو قبول کرلے اور جو چاہے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت پر عمل کرلے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں: ہمارے اصحاب علی بن مدینی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا اور عروہ رحمہ اللہ کے سماع کے متعلق کچھ کہا، جیسے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا ہے، گویا وہ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا پر عمل پیرا ہیں۔
(ج) شیخ کہتے ہیں: ہمارے اصحاب علی بن مدینی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا اور عروہ رحمہ اللہ کے سماع کے متعلق کچھ کہا، جیسے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا ہے، گویا وہ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اور حدیثِ بسرہ رضی اللہ عنہا پر عمل پیرا ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: اجْتَمَعَ سُفْيَانُ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَتَذَاكَرَا مَسَّ الذَّكَرِ، فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: " يُتَوَضَّأُ مِنْهُ "، وَقَالَ سُفْيَانُ: " لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ "، فَقَالَ سُفْيَانُ: " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَمْسَكَ بِيَدِهِ مَنِيًّا مَا كَانَ عَلَيْهِ؟ " فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ " يَغْسِلُ يَدَهُ " قَالَ: " فَأَيُّهُمَا أَكْبَرُ الْمَنِيُّ أَوْ مَسُّ الذَّكَرِ؟ " فَقَالَ: " مَا أَلْقَاهَا عَلَى لِسَانِكَ إِلَّا الشَّيْطَانُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ السُّنَّةَ لَا تُعَارَضُ بِالْقِيَاسِ، وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْهُ أَنَّ الَّذِي قَالَهُ مِنَ الصَّحَابَةِ لَا وُضُوءَ فِيهِ فَإِنَّمَا قَالَهُ بِالرَّأْيِ وَمَنْ أَوْجَبَ الْوُضُوءَ فِيهِ فَلَا يُوجِبُهُ إِلَّا بِالِاتِّبَاعِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سفیان اور ابن جریج رحمہما اللہ اکٹھے ہوئے تو انہوں نے مسِ ذکر پر بحث و مباحثہ کیا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس سے وضو کیا جائے گا اور سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: وضو نہیں کیا جائے گا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے بتاؤ اگر کوئی آدمی اپنے ہاتھ سے منی پکڑ لیتا ہے تو اس پر کیا ہے؟
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنا ہاتھ دھوئے گا تو انہوں نے پوچھا: کیا منی زیادہ بڑی ہے یا شرمگاہ کو چھونا بڑا ہے؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: یہ بات شیطان نے تمہارے دل میں ڈالی ہے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ سنت کا تقابل قیاس سے نہیں کیا جائے گا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی والی روایت میں ذکر کیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جس نے یہ کہا ہے کہ اس میں وضو نہیں ہے، اس نے اپنی رائے سے کہا ہے اور جس نے وضو واجب قرار دیا تو اس نے (سنت کی) اتباع ہی کی بنا پر واجب قرار دیا ہے۔
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنا ہاتھ دھوئے گا تو انہوں نے پوچھا: کیا منی زیادہ بڑی ہے یا شرمگاہ کو چھونا بڑا ہے؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: یہ بات شیطان نے تمہارے دل میں ڈالی ہے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ سنت کا تقابل قیاس سے نہیں کیا جائے گا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی والی روایت میں ذکر کیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جس نے یہ کہا ہے کہ اس میں وضو نہیں ہے، اس نے اپنی رائے سے کہا ہے اور جس نے وضو واجب قرار دیا تو اس نے (سنت کی) اتباع ہی کی بنا پر واجب قرار دیا ہے۔
أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ فَأَقْبَلَ يَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ عَنْ قَمِيصِهِ، وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ ". ⦗٢١٦⦘ فَهَذَا إِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ مَسَّهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ پر لوٹ پوٹ ہونے لگے، آپ ﷺ نے ان کی قمیص اٹھائی اور ان کی شرمگاہ کا بوسہ لیا۔
اس کی سند قوی نہیں ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے اسے ہاتھ سے چھوا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
اس کی سند قوی نہیں ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے اسے ہاتھ سے چھوا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔