کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدَاوَةٍ لِوُضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ وَقَالَ: فَأَدْرَكَهُ يَوْمًا فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ ". قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: " ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا، وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ، وَلَا رَوْثٍ ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ فِي ثَوْبِي، فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ وَقَامَ تَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثِ؟ فَقَالَ: " أَتَانِي وَفْدُ نَصِيبِينَ فَسَأَلُونِي الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللهَ لَهُمْ أَنْ لَا يَمُرُّوا بِرَوْثَةٍ وَلَا بِعَظْمٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهِ طَعَامًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی کا برتن آپ ﷺ کے پیچھے لے جاتے تھے، آپ ﷺ نے ان کو ایک دن پایا تو پوچھا: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے پتھر تلاش کرو تاکہ میں استنجا کروں اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا۔“ میں اپنے کپڑوں میں پتھر لایا وہ میں نے آپ ﷺ کے پہلو میں رکھ دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ فارغ ہو گئے اور کھڑے ہوئے اور میں آپ ﷺ کے پیچھے رہا۔
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ إِدَاوَتِي، فَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَاجَةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى مُخْتَصَرًا دُونَ سُؤَالِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدُونَ ذِكْرِ الْجِنِّ مِنْ نَصِيبِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک برتن اٹھائے ہوئے نکلا، تو میں نے آپ ﷺ کو اس حال میں پایا کہ آپ ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ رکھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ. قَالَ: فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً وَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: " هَذَا رِكْسٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، فَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا، وَاعْتَمَدَهُ الْبُخَارِيُّ وَوَضَعَهُ فِي الْجَامِعِ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: " ايْتِنِي بِحَجَرٍ ". وَرَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي ⦗١٧٥⦘ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عِنْدِي أَثْبَتُ وَأَصَحُّ لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ فِي أَبِي إِسْحَاقَ مِنْ هَؤُلَاءِ، وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَالَ: وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاقَ لَيْسَ بِذَلِكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخِرِهِ، وَأَبُو إِسْحَاقَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ كَانَ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس تین پتھر لے کر آؤں، مجھے دو پتھر مل گئے اور تیسرے کو میں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر میں نے گوبر لیا اور اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آیا، آپ ﷺ نے وہ دونوں پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: ”«هَذَا رِكْسٌ» یہ پلید ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اسرائیل کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اسرائیل ابو اسحاق سے روایت کرنے میں ان سب سے زیادہ پختہ ہیں اور قیس بن ربیع نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ اور فرمایا: زہیر ابو اسحاق سے روایت میں اتنے قوی نہیں، کیونکہ انہوں نے ابو اسحاق سے آخر میں سنا اور ابو اسحاق کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا۔
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اسرائیل کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اسرائیل ابو اسحاق سے روایت کرنے میں ان سب سے زیادہ پختہ ہیں اور قیس بن ربیع نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ اور فرمایا: زہیر ابو اسحاق سے روایت میں اتنے قوی نہیں، کیونکہ انہوں نے ابو اسحاق سے آخر میں سنا اور ابو اسحاق کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا۔
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ: " ايتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ، وَلَا تُقَرِّبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا ". ⦗١٧٦⦘ وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ إِنْ صَحَّتْ تُقَوِّي رِوَايَةَ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، إِلَّا أَنَّ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ جس سے میں استنجا کروں اور میرے پاس گوبر نہ لانا۔“
یہ روایت اگر صحیح ہو تو عبدالرحمن بن اسود سے ابو اسحاق کی روایت کو تقویت دیتی ہے، مگر لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔
یہ روایت اگر صحیح ہو تو عبدالرحمن بن اسود سے ابو اسحاق کی روایت کو تقویت دیتی ہے، مگر لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاودَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ. قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ، فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. قَالَ: " أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ". قَالَ: " فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ "، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ: " كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى هَكَذَا..
حافظ ثناء اللہ
عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جنوں والی رات نبی ﷺ کے ساتھ تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا جنوں والی رات تم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے آپ کو وادیوں اور ٹیلوں میں تلاش کیا، پھر ہم نے کہا: آپ ﷺ کو اڑا لیا گیا ہے یا اغوا کر لیا گیا ہے، ہم نے وہ رات اتنی بری گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ جب ہم نے صبح دیکھا تو آپ ﷺ حراء کی طرف سے آ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ ﷺ کو گم پایا اور آپ کو بہت تلاش کیا، لیکن ہم آپ ﷺ کو ڈھونڈ نہ سکے۔ اور ہم نے ایسی بری رات گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں کے داعی آئے تھے، میں ان کے ساتھ چلا گیا اور میں نے ان پر قرآن پڑھا“۔ راوی کہتا ہے: پھر آپ ﷺ ہمیں ساتھ لے کر گئے اور ہمیں ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے زادِ راہ کا سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو گوشت سے بھرپور ہو گی، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان دونوں سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے (جن) بھائیوں کا کھانا ہیں۔“
وَرَوَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: " وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ مُفَصَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن ابو ہند رحمہ اللہ اسی سند سے «وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ» تک بیان کرتے ہیں۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے زادِ راہ کا سوال کیا اور وہ جزیرہ کے جن تھے۔ حدیث کا باقی حصہ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ کر کے بیان کیا گیا ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے زادِ راہ کا سوال کیا اور وہ جزیرہ کے جن تھے۔ حدیث کا باقی حصہ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ کر کے بیان کیا گیا ہے۔
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاودَ، إِلَى قَوْلِهِ: " وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ ". ثُمَّ قَالَ: قَالَ دَاودُ: وَلَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ عَلْقَمَةَ أَوْ فِي حَدِيثِ عَامِرٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الزَّادَ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاودَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ دَاودَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابو عدی، داؤد سے «وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ» تک بیان کرتے ہیں، پھر فرماتے ہیں کہ داؤد نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ علقمہ کی حدیث میں ہے یا عامر کی حدیث میں کہ انہوں نے اس رات رسول اللہ ﷺ سے زادِ راہ کا سوال کیا، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا. قَالَ: فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جنوں کا وفد آیا، انہوں نے کہا: ”اے محمد ﷺ! اپنی امت کو منع کریں کہ وہ ہڈی اور گوبر یا کوئلہ سے استنجا نہ کریں، اس لیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے رزق رکھ دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس سے منع کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: حَدَّثَكَ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِعَظْمِ حَائِلٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ ". عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ لَمْ يَثْبُتْ سَمَاعُهُ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالْأَوَّلُ إِسْنَادٌ شَامِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ بْنِ سَنَةَ الْخُزَاعِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِي رِوَايَتِهِمَا ذِكْرُ الْحُمَمَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بوسیدہ ہڈی، گوبر اور کوئلہ سے استنجا کرنے“ سے منع کیا ہے۔
(ب) علی بن رباح کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ پہلی سند جو شامی ہے وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
(ج) ابو عثمان بن سنہ خزاعی اور عبدالرحمن بن رافع تنوخی کی روایت جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے اس میں کوئلے کا ذکر نہیں ہے۔
(ب) علی بن رباح کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ پہلی سند جو شامی ہے وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
(ج) ابو عثمان بن سنہ خزاعی اور عبدالرحمن بن رافع تنوخی کی روایت جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے اس میں کوئلے کا ذکر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: " نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَوْحٍ. وَرُوِّينَا فِيهِ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی ﷺ نے ہم کو منع کیا کہ ”ہم ہڈی یا اونٹی کی مینگنی سے استنجا کریں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاودَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ الْمِصْرِيُّ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ الْقِتْبَانِيَّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ شَيْبَانَ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: إِنْ كَانَ أَحَدُنَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْخُذُ نِضْوَ أَخِيهِ عَلَى أَنَّ لَهُ النِّصْفَ مِمَّا يَغْنَمُ، وَلَنَا النِّصْفَ وَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَطِيرُ لَهُ النَّصْلُ وَالرِّيشُ، وَلِلْآخَرِ الْقِدْحُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ: " يَا رُوَيْفِعُ، لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا مِنْهُ بَرِيءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کوئی نبی ﷺ کے زمانہ میں اپنے بھائی کا کمزور اونٹ اس شرط پر لیتا کہ غنیمت میں سے اس کے لیے آدھا ہے اور ہمارے لیے آدھا، اور ہم میں سے کسی کے حصے میں تیر کا پھل اور پر آتے اور دوسرے کے حصے میں تیر کی لکڑی، پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے رویفع! شاید تمہاری زندگی میرے بعد لمبی ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے داڑھی کی گرہ لگائی یا تندی پہنی یا چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد ﷺ اس سے بری ہیں۔“