کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ: " إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ ". وَقَالَ وَكِيعٌ: لَا يَتَوَقَّى قَالَ: فَدَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ: " لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهُمَا الْعَذَابَ مَا لَمْ يَيْبَسَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَغَيْرِهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی چیز کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان میں سے ایک چغل خور تھا اور دوسرا اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔“ وکیع کہتے ہیں: پرہیز نہیں کرتا تھا۔ راوی کہتا ہے: آپ ﷺ نے ایک تر و تازہ ٹہنی منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کیے، پھر ایک کو ایک قبر پر اور دوسری کو دوسری پر گاڑ دیا، پھر فرمایا: ”شاید اللہ تعالیٰ ان دونوں سے عذاب کو ہلکا کر دے جب تک یہ خشک نہ ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 508
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 213»
حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا الْأَعْمَشُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ ٠ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرَ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُ الدَّرَقَةِ فَجَلَسَ فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقُلْتُ أَنَا وَصَاحِبِي: انْظُرْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ وَهُوَ جَالِسٌ؟ فَأَتَانَا، فَقَالَ: " أَمَا عَلِمْتُمْ مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَ إِذَا أَصَابَ أَحَدًا مِنْهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما چلے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ کے پاس ڈھال یا ڈھال نما کوئی چیز تھی۔ آپ ﷺ بیٹھے اور آپ ﷺ نے پردہ کیا اور بیٹھنے کی حالت میں پیشاب کیا۔ میں اور میرے ساتھی نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھو کیسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، حالانکہ آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے؛ آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں ہے جو بنی اسرائیل والوں کو پہنچا تھا کہ جب ان کو پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو اس کو قینچیوں سے کاٹ دیتے تھے، پھر جب وہ اس کام سے رک گئے تو اپنی قبر میں عذاب دیے گئے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 509
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 22»