کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: لوگوں کے راستے اور ان کے سائے کی جگہوں پر قضائے حاجت کرنے کی ممانعت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ ". قَالُوا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ وَظِلِّهِمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دو لعنت کرنے والی چیزوں سے بچو!“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! دو لعنت والی چیزیں کون سی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جو لوگوں کے راستے اور ان کے سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ: " اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ: الْبَرَازُ فِي الْمَوَارِدِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالظِّلِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین لعنت والی چیزوں سے بچو، یعنی گھاٹ میں، لوگوں کے راستے میں اور ان کے سائے کی جگہ میں قضائے حاجت کرنے سے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، نا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي ⦗١٥٩⦘ هُرَيْرَةَ: أَفْتَيْتَنَا فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يُوشِكَ أَنْ تُفْتِيَنَا فِي الْخِرَاءَةِ قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ: " مَنْ سَلَّ سَخِيمَتَهُ عَلَى طَرِيقٍ عَامِرٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ہمیں ہر چیز کے بارے میں فتویٰ دیا ہے، قریب ہے کہ آپ ہمیں پاخانے کے بارے میں بھی فتویٰ دیں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس شخص نے مسلمانوں کے راستے میں سے کسی آباد راستے پر پاخانہ کیا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا هِقْلٌ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: " يُكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَبُولَ فِي هَوَاءٍ، وَأَنْ يَتَغَوَّطَ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ كَأَنَّهُ طَيْرٌ وَاقِعٌ ". هَكَذَا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آدمی کے لیے ناپسندیدہ ہے کہ وہ کھلی فضا میں پیشاب کرے اور پہاڑ کی چوٹی پر پاخانہ کرے گویا وہ (چوٹی پر) بیٹھا ہوا پرندہ ہے۔
وَقَدْ رَوَاهُ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ " يَكْرَهُ الْبَوْلَ فِي الْهَوَاءِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِمْرَانَ، نا يُوسُفُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هُوَ مَوْضُوعٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کھلی فضا میں پیشاب کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
ابو احمد کہتے ہیں: روایت موضوع ہے۔
اس کا راوی یوسف بن سفر متروک ہے۔
ابو احمد کہتے ہیں: روایت موضوع ہے۔
اس کا راوی یوسف بن سفر متروک ہے۔