السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: النهي عن التخلي في طريق الناس وظلهم باب: لوگوں کے راستے اور ان کے سائے کی جگہوں پر قضائے حاجت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، نا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي ⦗١٥٩⦘ هُرَيْرَةَ: أَفْتَيْتَنَا فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يُوشِكَ أَنْ تُفْتِيَنَا فِي الْخِرَاءَةِ قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ: " مَنْ سَلَّ سَخِيمَتَهُ عَلَى طَرِيقٍ عَامِرٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ہمیں ہر چیز کے بارے میں فتویٰ دیا ہے، قریب ہے کہ آپ ہمیں پاخانے کے بارے میں بھی فتویٰ دیں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس شخص نے مسلمانوں کے راستے میں سے کسی آباد راستے پر پاخانہ کیا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“