کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: وضو کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 381
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَبَكْرُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالَا: وَحَدَّثَنَا أَبُو ⦗١٣١⦘ الْعَبَّاسِ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ (نکل جاتا ہے)، اور جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے ہاتھوں نے کیا، پانی کے ساتھ یا فرمایا: پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، اور جب وہ اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس کے پاؤں نے کیا، پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو کر نکلتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 381
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 244»
حدیث نمبر: 382
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قُدُومِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قُدُومِهِ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْوضُوءُ؟ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَقْرَبُ وَضُوءَهُ، فَيُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ، فَيَنْثُرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عِكْرِمَةَ: " ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ ". وَلَمْ يذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَاحْتَجَّ بِهِ فِي وَجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے مکہ تشریف لے جانے اور مدینہ واپس تشریف لانے کے متعلق طویل حدیث ذکر کی، وہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وضو کیا ہے؟ مجھے بتلائیے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان پانی اپنے قریب کرتا ہے، اس کے بعد کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے، پھر ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک کے بانسے سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے اطراف اور داڑھی سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر سر کا مسح کرتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر ٹخنوں تک اپنے قدموں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے پاؤں کی انگلیوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے اور اس کی ایسی بزرگی بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر دیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اس کی والدہ نے اس کو جنم دیا ہے۔“
(ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) ابو ولید نے اس روایت سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 382
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 832»
حدیث نمبر: 383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مَنْ يدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: يَرْوِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ وَيُقَالُ: أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ يُقَالُ لَهُ: الصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ، كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ. وَزَعَمَ الْبُخَارِيُّ أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ وَهِمَ فِي هَذَا، وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ الصُّنَابِحِيُّ لَمْ يسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: وَتَابَعَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ زَيْدٍ. وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، عَنْ مَالِكٍ، فَقَالَ: عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَاحْتَجَّ بِآثَارٍ ذَكَرَهَا عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ فِيهِ كَمَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے قدموں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے اجر و ثواب میں زیادتی کا باعث ہے۔“
(ب) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ، عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ جو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں، ابوبکر عبدالرحمن بن عسیلہ رحمہ اللہ کے اور قیس بن ابو حازم رحمہ اللہ کے دوست ہیں اور وہ صنابح بن اعسر کے نام سے مشہور ہیں، یہ قول یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالک بن انس رحمہ اللہ کو ان کے نام کے متعلق وہم ہوا ہے وہ تو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں۔ عبدالرحمن بن عسیلہ رحمہ اللہ کا نبی ﷺ سے سماع ثابت نہیں، یہ حدیث مرسل ہے، عبدالرحمن رحمہ اللہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور صنابح بن اعسر رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے تاریخ میں مالک بن انس رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے پھر فرمایا: ان کی متابعت ابن ابی مریم عن ابو غسان عن زید کی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے صنابحی ابو عبداللہ سے روایت بیان کی ہے، اس کے رواۃ اور آثار کو قابلِ حجت سمجھتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 383
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه احمد 4/349»
حدیث نمبر: 384
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، وَأَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: نا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ قَالَ أَبُو بَدْرٍ: مِنْ خَيْرِ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَنْ يحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا» ”سیدھے رہو اور تم شمار نہیں کیے جاؤ گے،“ «وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» ”جان لو بے شک افضل...“ ابو بدر نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ”تمہارے اعمال میں سے بہتر نماز ہے اور وضو پر محافظت صرف مومن کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 384
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه 277»