أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ السُّلَمِيُّ بِحَرَّانَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الصَّائِغُ بِالرِّيِّ، وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَلُوشَا بِأَسَدْآبَادَ هَمَذَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي الْجَرَّاحِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، قَالَ: نا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَا تُقْبَلُ لَهُ صَلَاةٌ إِلَّا بِهِ ". ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا وُضُوءُ مَنْ يُضَاعَفُ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ ". ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ: " لَا يَقْبَلُ اللهُ لَهُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِهِ ". وَقَالَ: " يُضَاعِفُ اللهُ لَهُ ". وَهَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يَنْفَرِدُ بِهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ وضو ہے، اس کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔“ پھر دو دو مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جس کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔“ پھر تین تین مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔“
(ب) عبداللہ بن سلمان کی حدیث میں ہے کہ اس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتا اور فرمایا: ”اللہ اس کو دوہرا اجر دے گا۔“
اس سند سے اس حدیث کو بیان کرنے میں مسیب بن واضح منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
(ب) عبداللہ بن سلمان کی حدیث میں ہے کہ اس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتا اور فرمایا: ”اللہ اس کو دوہرا اجر دے گا۔“
اس سند سے اس حدیث کو بیان کرنے میں مسیب بن واضح منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الذَّرَّاعُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَقَالَ: " هَذَا وُضُوءٌ لَا يَقْبَلُ اللهُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِهِ ". ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ: " هَذَا وُضُوءُ مَنْ يُؤْتَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ ". ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا فَقَالَ: " هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي ". وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ. وَخَالَفَهُمَا غَيْرُهُمَا، وَلَيْسُوا فِي الرِّوَايَةِ بِأَقْوِيَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پانی منگوایا اور ایک ایک مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ وضو ہے اس کے بغیر اللہ نماز قبول نہیں کرتے۔“ پھر پانی منگوایا تو دو دو مرتبہ وضو کیا اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو ہے جس کو دوہرا اجر دیا جائے گا۔“ پھر پانی منگوایا اور تین تین مرتبہ وضو کیا، پھر فرمایا: ”یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔“
اسی طرح یہ عبدالرحیم بن زید عمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی گئی ہے، اور دوسروں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے، اور یہ روایت میں قوی نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔
اسی طرح یہ عبدالرحیم بن زید عمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی گئی ہے، اور دوسروں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے، اور یہ روایت میں قوی نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔