حدیث نمبر: 385
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”جس نے نماز کے لیے مکمل وضو کیا، پھر فرض نماز پڑھنے کے لیے چلا اور اس نے لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 386
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالُوا: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تم کو نہ بتلاؤں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور درجات بلند کر دیتا ہے؟ ناگواری (یعنی سخت سردی) میں مکمل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا، یہ «الرِّبَاطُ» ”رباط“ ہے“، تین مرتبہ فرمایا (رباط کا معنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے)۔
حدیث نمبر: 387
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَا: ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، نا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
مالک رحمہ اللہ نے اس حدیث کو پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗١٣٤⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانِنَا ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ؟ قَالَ: " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يعْرَفُ خَيْلَهُ؟ ". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ: أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ ثَلَاثًا ". فَيُقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا، فَأَقُولُ: " فَسُحْقًا، فَسُحْقًا، فَسُحْقًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف نکلے تو یہ دعا پڑھی: «السَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ» ”تم پر سلامتی ہو اے مؤمن قوم کے گھر والو! اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا، تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“ (پھر فرمایا:) ”میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ اپنی امت کے اس شخص کو کس طرح پہچانو گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ، اگر ایک شخص کے پاس انتہائی سیاہ گھوڑوں میں سفید پیشانی والے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک وہ قیامت کے دن آئیں گے اور ان کے وضو کے اعضا چمک رہے ہوں گے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا اور کچھ لوگ میرے حوض سے اس طرح ہٹا دیے جائیں گے، جس طرح آوارہ اونٹ ہٹایا جاتا ہے، میں ان کو بلاؤں گا کہ آ جاؤ، آ جاؤ، آ جاؤ تین مرتبہ کہوں گا“ تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل دیا، تو میں کہوں گا: ”دور رہو، دور رہو، دور رہو۔“
حدیث نمبر: 389
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، نا الْأَنْصَارِيُّ يَعْنِي إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى، نا مَعْنٌ، نا مَالِكٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔