کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مشرکین کے برتنوں کی نجاست کا علم ہونے کی صورت میں انہیں دھونے کے بعد ان سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 132
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ شَقِيقٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ، أنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ، نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَخْبِرْنِي: مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَنَّكَ بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْغَسْلِ قَدْ وَقَعَ عِنْدَ الْعِلْمِ بِنَجَاسَةِ آنِيَتِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیں؟ اور جب میں شکار والے علاقے میں ہوتا ہوں تو اپنی کمان سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سکھلائے ہوئے کتے کو چھوڑتا ہوں اور میرے کتے کے ساتھ غیر سکھلایا ہوا کتا بھی شامل ہو جاتا ہے، تو اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم نے اہل کتاب کے علاقے کا ذکر کیا ہے، تو ان برتنوں کے متعلق جن میں وہ کھاتے ہیں، اگر تم ان کے علاوہ برتن پاؤ تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ اور اگر تم ان کے علاوہ نہ پاؤ تو انہیں دھو لو اور ان میں کھا لو، اور جو تم نے شکار والے علاقے اور کمان کے ساتھ شکار کا ذکر کیا ہے، تو اس پر اللہ کا نام لو اور اسے کھا لو، اور جو تم سکھلائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کرو تو اس پر اللہ کا نام لو اور اسے کھا لو، اور جو تم غیر سکھلائے ہوئے کتے کے ساتھ شکار کرو اور اسے (زندہ) پا کر ذبح کر لو تو اسے کھا لو۔“
حدیث نمبر: 133
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نُجَاوِرُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَهُمْ يَطْبُخُونَ فِي قُدُورِهِمُ الْخِنْزِيرَ وَيَشْرَبُونَ فِي آنِيَتِهِمْ الْخَمْرَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ⦗٥٤⦘ إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَكُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا ". هَكَذَا أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ہم اہل کتاب کے ہمسائے ہیں اور وہ اپنی ہانڈیوں میں خنزیر پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ان (برتنوں) کے علاوہ برتن پاؤ تو ان میں کھاؤ اور پیو اور اگر تم ان کے علاوہ نہ پاؤ تو ان کو پانی سے دھو لو، پھر ان میں کھاؤ اور پیو۔“
حدیث نمبر: 134
وَلِمُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ، أَخْبَرَنَاهُ الْعَنْبَرُ بْنُ الطِّيبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ وَلَقَبُهُ دُحَيْمٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ اسی مذکورہ روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 135
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا نَغْزُو وَنَسِيرُ فِي أَرْضِ الْمُشْرِكِينَ، فَنَحْتَاجُ إِلَى آنِيَةٍ مِنْ آنِيَتِهِمْ فَنَطْبُخُ فِيهَا فَقَالَ: " اغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ، ثُمَّ اطْبُخُوا فِيهَا وَانْتَفِعُوا بِهَا ". وَهَكَذَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ مَوْصُولًا، وَقَدْ أَرْسَلَهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ، فَلَمْ يَذْكُرُوا أَبَا أَسْمَاءَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ہم جہاد کرتے ہیں اور مشرکوں کی زمین میں چلتے ہیں، ہم کو ان کے برتنوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہم ان میں پکاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو پانی کے ساتھ دھو لو، پھر ان میں پکاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔“