کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسواک کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: مسواک کی فضیلت کے بیان میں
حدیث نمبر: 136
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا ⦗٥٥⦘ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ". وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسواک منہ کی صفائی کا ذریعہ اور رب کی رضا مندی کا سبب ہے۔“
حدیث نمبر: 137
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ السَّبِيعِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، إِمْلَاءً مِنْ حِفْظِهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغَضَائِرِيُّ بِحَلَبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ. قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَمُحَمَّدٌ يُكْنَى أَبَا عَتِيقٍ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ كَذَلِكَ، وَبَيَّنَ فِيهِ سَمَاعَ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
مسعر نے مذکورہ روایت کی طرح ہی ذکر کیا ہے مگر یہ الفاظ زائد ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی ہیں۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی عتیق عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ابو عتیق محمد کی کنیت ہے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی عتیق عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ابو عتیق محمد کی کنیت ہے۔
حدیث نمبر: 138
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ". عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ نِسْبَةً إِلَى جَدِّهِ، وَقِيلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَكَأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی عتیق کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسواک منہ کی صفائی کا سبب اور رب کی رضا مندی کا ذریعہ ہے۔“
عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عتیق ہیں۔ یزید نے ان کی نسبت دادا کی طرف کی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ عبدالرحمن نے قاسم بن محمد سے بیان کیا ہے، گویا اس نے دونوں سے سنا ہے۔
عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عتیق ہیں۔ یزید نے ان کی نسبت دادا کی طرف کی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ عبدالرحمن نے قاسم بن محمد سے بیان کیا ہے، گویا اس نے دونوں سے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 139
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ".
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مسواک منہ کی صفائی کا سبب اور رب کی رضا مندی کا ذریعہ ہے۔“
حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْهَاشِمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ".
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسواک منہ کی صفائی کا سبب اور رب کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔“
حدیث نمبر: 141
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: " بِالسِّوَاكِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
مقدام بن شریح بن ہانی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جب نبی ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز کے ساتھ ابتدا کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مسواک کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 142
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ يَسْتَاكُ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " عَا عَا ". وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ كَأَنَّهُ يَتَهَوَّعُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابن ابی موسیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو اپنے ہاتھ کے ساتھ مسواک کرتے ہوئے پایا اور آپ ﷺ کے منہ مبارک سے «عَاْ عَاْ» کی آواز آرہی تھی۔
(«عَاْ عَاْ») مسواک کرتے وقت جو آواز نکلتی ہے اور مسواک آپ ﷺ کے منہ میں تھی گویا کہ آپ ﷺ آواز نکال رہے ہیں۔
(ب) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا ایک کنارہ آپ کی زبان پر تھا۔
(ج) صحیح بخاری کی ایک حدیث میں «أُعْ أُعْ» کے الفاظ ہیں۔
(«عَاْ عَاْ») مسواک کرتے وقت جو آواز نکلتی ہے اور مسواک آپ ﷺ کے منہ میں تھی گویا کہ آپ ﷺ آواز نکال رہے ہیں۔
(ب) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا ایک کنارہ آپ کی زبان پر تھا۔
(ج) صحیح بخاری کی ایک حدیث میں «أُعْ أُعْ» کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم میں سب سے زیادہ مسواک کرنے والا ہوں۔“
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ السِّوَاكِ، فَقَالَ: " مَا زَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِهِ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
تمیمی سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسواک کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ ہمیشہ اس کا حکم دیا کرتے تھے حتیٰ کہ ہم ڈر گئے کہ کہیں یہ فرض نہ ہو جائے۔“