کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مشرکین کے برتنوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان جب ان کی نجاست کا علم نہ ہو
حدیث نمبر: 126
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُ عَطَشٌ شَدِيدٌ، فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحْسَبُهُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ أَوْ غَيْرَهُمَا قَالَ: " إِنَّكُمَا سَتَجِدَانِ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا امْرَأَةً مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ فَأْتِيَانِي بِهَا " فَأَتَيَا الْمَرْأَةَ فَوَجَدَاهَا قَدْ رَكِبَتْ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ عَلَى الْبَعِيرِ فَقَالَا لَهَا: أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللهِ، هَذَا الصَّابِئُ؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ وَهُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَجَاءَا بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ مِنْ مَزَادَتَيْهَا، ثُمَّ قَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَعَادَ الْمَاءَ فِي الْمَزَادَتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِعَزْلَاءِ الْمَزَادَتَيْنِ فَفُتِحَتْ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَمَلَئُوا آنِيَتَهِمْ وَأَسْقِيَتَهُمْ، فَلَمْ يَدَعُوا يَوْمَئِذٍ إِنَاءً وَلَا سِقَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ. قَالَ عِمْرَانُ: فَكَانَ يُخَيَّلُ إِلِيَّ أَنَّهَا لَمْ تَزْدَدْ إِلَّا امْتِلَاءً. قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهَا فَبُسِطَتْ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَجَاءُوا مِنْ زَادِهِمْ حَتَّى مَلَئُوا لَهَا ثَوْبَهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا: " اذْهَبِي، فَإِنَّا لَمْ نَأْخُذْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللهَ سَقَانَا ". قَالَ: فَجَاءَتْ أَهْلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُمْ ⦗٥٢⦘ فَقَالَتْ: جِئْتُكُمْ مِنْ أَسْحَرِ النَّاسِ أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللهِ حَقًّا قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ ذَلِكَ الْحِوَاءِ حَتَّى أَسْلَمَوا كُلُّهُمْ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، وَفِيهِ: فَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ: " اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ ". وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں گئے، انھیں سخت پیاس لگ گئی۔ آپ ﷺ کے دو صحابی آئے۔ میرا گمان ہے کہ وہ علی اور زبیر رضی اللہ عنہما تھے یا شاید ان کے علاوہ کوئی اور۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں فلاں جگہ پر ایک عورت کو پاؤ گے اس کے پاس اونٹ ہوگا، اس پر دو مٹکے ہوں گے، تم دونوں اس کو میرے پاس لاؤ۔“ وہ دونوں عورت کے پاس آئے۔ انھوں نے اس کو دیکھا وہ عورت اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی، انھوں نے اس سے کہا: آپ کو رسول اللہ ﷺ بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی: کون رسول اللہ ﷺ؟ یہی بے دین! (معاذ اللہ) انھوں نے کہا: وہی ہیں جو تم مراد لے رہی ہو لیکن رسول اللہ ﷺ برحق ہیں، وہ دونوں اس کو لے کر آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مٹکوں سے پانی نکالو اور اس پر کچھ پڑھا۔ پھر پانی کو اس کے مٹکوں میں واپس لوٹا دیا۔ پھر آپ ﷺ نے دو مشکیزوں کا حکم دیا، ان کو کھولا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا، انھوں نے اپنے برتنوں اور مشکیزوں کو بھر لیا اور لوگوں نے اس دن کوئی برتن اور مشکیزہ خالی نہیں چھوڑا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خیال تھا کہ زیادہ بھر گیا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کپڑے کو پھیلانے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اپنا زادِ راہ لے کر آئیں۔ انھوں نے زادِ راہ سے کپڑے کو بھر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس عورت سے فرمایا: ”جاؤ، ہم نے آپ کے پانی میں سے کچھ نہیں لیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو پلا دیا ہے۔“
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ عورت اپنے اہل و عیال کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں سب سے بڑے جادوگر کے پاس سے آئی ہوں یا پھر وہ یقیناً اللہ کے برحق رسول ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر حواء بستی والے آئے اور سب مسلمان ہو گئے۔
بیشک نبی کریم ﷺ کو ناپاک آدمی نے برتن میں پانی دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔“ اور وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی جو اس کے پانی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 126
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 337»
حدیث نمبر: 127
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَاهُ بِزِيَادَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عوف رضی اللہ عنہ پچھلی روایت کے ہم معنی کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 127
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الحاكم 3/213»
حدیث نمبر: 128
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى، أنا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ، فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: فَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، ہمیں مشرکوں کے برتن اور ان کے مشکیزے مل جاتے تو ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے، یہ ان کے لیے کوئی عیب والی بات نہیں ہوتی تھی۔
(ب) اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 128
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابو داؤد 3838»
حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَاءِ نَصْرَانِيَّةٍ فِي جَرَّةِ نَصْرَانِيَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نصرانی کے مٹکے میں موجود پانی سے وضو کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 129
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه المولف في سننه الصغري 221»
حدیث نمبر: 130
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثُونَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ - وَلَمْ أَسْمَعْهُ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كُنَّا بِالشَّامِ أَتَيْتُ عُمَرَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ جِئْتَ بِهَذَا؟ فَمَا رَأَيْتُ مَاءَ بِئْرٍ وَلَا مَاءَ سَمَاءٍ أَطْيَبَ مِنْهُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: مِنْ بَيْتِ هَذِهِ الْعَجُوزِ النَّصْرَانِيَّةِ. فَلَمَّا تَوَضَّأَ أَتَاهَا فَقَالَ: " أَيَّتُهَا الْعَجُوزُ، أَسْلِمِي تَسْلَمِي، بَعَثَ اللهُ بِالْحَقِّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَكَشَفَتْ رَأْسَهَا فَإِذَا مِثْلُ الثُّغَامَةِ. قَالَتْ: وَأَنَا أَمُوتُ الْآنَ؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: " اللهُمَّ اشْهَدْ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم کے والد کہتے ہیں کہ جب ہم شام میں تھے تو میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پانی لے کر آیا، آپ نے اس سے وضو کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو اس کو کہاں سے لایا ہے؟ میں نے اس پانی اور آسمان کے پانی کے علاوہ کوئی اچھا پانی نہیں دیکھا۔ زید بن اسلم کے باپ کہتے ہیں: میں نے کہا: اس نصرانی بڑھیا عورت کے گھر سے (لایا ہوں)۔ جب آپ نے وضو کیا تو اس عورت کے پاس آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بڑھیا عورت! مسلمان ہوجا تو محفوظ ہوجائے گی، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے اپنا سر ننگا کیا تو اس کا سر ثغامہ پھول کی طرح سفید ہوچکا تھا، اس عورت نے کہا: اب میں مر جاؤں؟ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! تو گواہ ہوجا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 130
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف: أخرجه المولف في المعرفة 41
تخریج حدیث «ضعيف: أخرجه المولف في المعرفة 41»
حدیث نمبر: 131
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُوَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي أَنْ يَشْرَبَ فِي الْإِنَاءِ لِلنَّصْرَانِيِّ ". فَقَدْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِبْرَاهِيمُ الْخُوزِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، ثُمَّ هُوَ مَحمُولٌ عَلَى التَّنْزِيهِ بِمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نصاریٰ کے برتنوں میں پینے سے پرہیز کرتے تھے۔
(ب) ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن یزید خوزی، ابن ابی ملیکہ سے بیان کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم کی حدیث قابل حجت نہیں۔
(د) پھر یہ روایت جو ابھی گزری ہے نہی تنزیہی پر محمول ہوگی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 131
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»