السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل الأشربة باب: شراب (یا نشہ آور مشروبات) پینے والوں کی گواہی کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَيْئًا وَهُوَ يَعْرِفُهَا خَمْرًا رُدَّتْ شَهَادَتُهُ، لِأَنَّ تَحْرِيمَهَا نَصٌّ فِي كِتَابِ اللهِ، سَكِرَ أَوْ لَمْ يَسْكَرْ، وَقَالَ فِيمَا سِوَاهَا مِنَ الْأَشْرِبَةِ الَّتِي يُسْكِرُ كَثِيرُهَا: فَهُوَ عِنْدَنَا مُخْطِئٌ بِشُرْبِهِ، آثِمٌ بِهِ، وَلَا تُرَدُّ بِهِ شَهَادَتُهُ "، يَعْنِي لِمَا فِيهِ مِنَ الْخِلَافِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: " مَا لَمْ يَسْكَرْ مِنْهُ، فَإِذَا سَكِرَ مِنْهُ فَشَهَادَتُهُ مَرْدُودَةٌ مِنْ قِبَلِ أَنَّ السُّكْرَ مُحَرَّمٌ عِنْدَ جَمِيعِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ".امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص نے شراب (خمر) میں سے کچھ بھی پیا، جبکہ وہ جانتا ہو کہ یہ خمر ہے، تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، خواہ اسے نشہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، کیونکہ اس کی حرمت کتاب اللہ میں نص (صریح) ہے۔“
اور خمر کے علاوہ ان مشروبات کے بارے میں جن کی زیادہ مقدار نشہ لاتی ہے، فرمایا: ”ایسا شخص ہمارے نزدیک اسے پینے کی وجہ سے غلطی پر ہے اور اس کی وجہ سے گناہ گار ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس کی گواہی رد نہیں کی جائے گی۔“ یعنی اس وجہ سے کہ اس میں اختلاف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(یہ حکم اس وقت تک ہے) جب تک اسے اس سے نشہ نہ ہو، پھر جب اسے اس سے نشہ ہو جائے تو اس کی گواہی مردود ہے، اس وجہ سے کہ نشہ تمام اہل اسلام کے نزدیک حرام ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ السَّرِيِّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَيْنِهَا، قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ ". فَمِنْ هَذَا وَمَا أَشْبَهَهُ وَقَعَتْ شُبْهَةُ مَنْ أَبَاحَ الْقَلِيلَ مِنْ سَائِرِ الْأَشْرِبَةِ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَا نُبَيْحُ شَيْئًا مِنْهُ إِذَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، لِمَا رُوِّينَا، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْهَاكُمْ عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ "، وَقَالَ: " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ "، وَقَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ هَذَا أَنَّهُ قَالَ: " وَالْمُسْكِرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ ".عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: شراب بذات خود حرام کی گئی ہے، تھوڑی ہو یا زیادہ، اور (اسی طرح) ہر مشروب سے نشہ (بھی حرام ہے)۔ اس سے اور اس جیسی چیزوں کی وجہ سے اس شخص کو شبہ ہوا جس نے دیگر مشروبات کی تھوڑی مقدار کو جائز قرار دیا ہے۔ ہم تو اس کا تھوڑا بھی حرام خیال کرتے ہیں جس کی زیادہ مقدار نشہ دے۔
(ب) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اس چیز کی تھوڑی مقدار سے منع کرتا ہوں جس کی زیادہ مقدار نشہ دے“ اور فرمایا: ”جس کی زیادہ مقدار نشہ دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے“ اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے“۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ”اور ہر مشروب میں سے نشہ آور (مقدار حرام ہے)“۔