کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: شراب (یا نشہ آور مشروبات) پینے والوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 20947
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَيْئًا وَهُوَ يَعْرِفُهَا خَمْرًا رُدَّتْ شَهَادَتُهُ، لِأَنَّ تَحْرِيمَهَا نَصٌّ فِي كِتَابِ اللهِ، سَكِرَ أَوْ لَمْ يَسْكَرْ، وَقَالَ فِيمَا سِوَاهَا مِنَ الْأَشْرِبَةِ الَّتِي يُسْكِرُ كَثِيرُهَا: فَهُوَ عِنْدَنَا مُخْطِئٌ بِشُرْبِهِ، آثِمٌ بِهِ، وَلَا تُرَدُّ بِهِ شَهَادَتُهُ "، يَعْنِي لِمَا فِيهِ مِنَ الْخِلَافِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: " مَا لَمْ يَسْكَرْ مِنْهُ، فَإِذَا سَكِرَ مِنْهُ فَشَهَادَتُهُ مَرْدُودَةٌ مِنْ قِبَلِ أَنَّ السُّكْرَ مُحَرَّمٌ عِنْدَ جَمِيعِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص نے شراب (خمر) میں سے کچھ بھی پیا، جبکہ وہ جانتا ہو کہ یہ خمر ہے، تو اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، خواہ اسے نشہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، کیونکہ اس کی حرمت کتاب اللہ میں نص (صریح) ہے۔“
اور خمر کے علاوہ ان مشروبات کے بارے میں جن کی زیادہ مقدار نشہ لاتی ہے، فرمایا: ”ایسا شخص ہمارے نزدیک اسے پینے کی وجہ سے غلطی پر ہے اور اس کی وجہ سے گناہ گار ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس کی گواہی رد نہیں کی جائے گی۔“ یعنی اس وجہ سے کہ اس میں اختلاف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(یہ حکم اس وقت تک ہے) جب تک اسے اس سے نشہ نہ ہو، پھر جب اسے اس سے نشہ ہو جائے تو اس کی گواہی مردود ہے، اس وجہ سے کہ نشہ تمام اہل اسلام کے نزدیک حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20947
حدیث نمبر: 20947
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ السَّرِيِّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ لِعَيْنِهَا، قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ ". فَمِنْ هَذَا وَمَا أَشْبَهَهُ وَقَعَتْ شُبْهَةُ مَنْ أَبَاحَ الْقَلِيلَ مِنْ سَائِرِ الْأَشْرِبَةِ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَا نُبَيْحُ شَيْئًا مِنْهُ إِذَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، لِمَا رُوِّينَا، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْهَاكُمْ عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ "، وَقَالَ: " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ "، وَقَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ هَذَا أَنَّهُ قَالَ: " وَالْمُسْكِرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اصل شراب تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے اور نشہ ہر شراب سے ہوتا ہے، اس سے اور اس جیسی چیزوں کی وجہ سے اس شخص کو شبہ ہوا جس نے تھوڑی شراب کو جائز قرار دیا ہے۔ ہم تو اس کا تھوڑا بھی حرام خیال کرتے ہیں جس کی زیادہ مقدار نشہ دے۔
(ب) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”تم کو اس سے منع کر دیا جس کی زیادہ مقدار نشہ دے، جس کی زیادہ مقدار نشہ دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے“ اور فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے“۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20947
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20948
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَجٍّ، أَوْ عُمْرَةٍ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَاكِبٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَرَى هَذَا يَطْلُبُنَا "، قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ فَبَكَى، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ، إِنْ كُنْتَ غَارِمًا أَعَنَّاكَ، وَإِنْ كُنْتَ خَائِفًا أَمَّنَّاكَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَتُقْتَلَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَرِهْتَ جِوَارَ قَوْمٍ حَوَّلْنَاكَ عَنْهُمْ "، قَالَ: إِنِّي شَرِبْتُ الْخَمْرَ، وَأَنَا أَحَدُ بَنِي تَيْمٍ، وَإِنَّ أَبَا مُوسَى جَلَدَنِي، وَحَلَقَنِي، وَسَوَّدَ وَجْهِي، وَطَافَ بِي فِي النَّاسِ، وَقَالَ: لَا تُجَالِسُوهُ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُ، فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا فَأَضْرِبَ بِهِ أَبَا مُوسَى، وَإِمَّا أَنْ آتِيَكَ فَتُحَوِّلَنِي إِلَى الشَّامِ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْرِفُونَنِي، وَإِمَّا أنْ أَلْحَقَ بِالْعَدُوِّ، وَآكُلَ مَعَهُمْ وَأَشْرَبَ، قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّكَ فَعَلْتَ وَأَنَّ لِعُمَرَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنِّي كُنْتُ لَأَشْرَبَ النَّاسِ لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّهَا لَيْسَتْ كَالزِّنَا "، وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ التَّيْمِيَّ أَخْبَرَنِي بِكَذَا وَكَذَا، وَايْمُ اللهِ لَئِنْ عُدْتَ لَأُسَوِّدَنَّ وَجْهَكَ، وَلَأُطَوِّفَنَّ بِكَ فِي النَّاسِ، فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ حَقَّ مَا أَقُولُ لَكَ فَعُدْ، فَأْمُرِ ⦗٣٦٢⦘ النَّاسَ أَنْ يُجَالِسُوهُ وَيُؤَاكِلُوهُ، وَإِنْ تَابَ فَاقْبَلُوا شَهَادَتَهُ "، وَحَمَلَهُ وَأَعْطَاهُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَأَخْبَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ شَهَادَتَهُ تَسْقُطُ بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ، وَأَنَّهُ إِذَا تَابَ حِينَئِذٍ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَائِعُ الْخَمْرِ مَرْدُودُ الشَّهَادَةِ، لِأَنَّهُ لَا خِلَافَ بَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي أَنَّ بَيْعَهَا مُحَرَّمٌ " قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى تَحْرِيمِ بَيْعِهَا مَعَ الْإِجْمَاعِ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب ہم سوار تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ ہم سے مطالبہ کر رہے تھے، راوی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا، وہ رو رہا تھا۔ پوچھا: تیری کیا حالت ہے؟ اگر تو مقروض ہے تو ہم تیری مدد کریں گے۔ اگر تو ڈرتا ہے تو ہم تجھے پناہ دیں گے۔ اگر تو نے کسی جان کو قتل کیا تو قصاصاً قتل کر دیا جائے گا، اگر تو اپنی قوم کے پڑوس کو ناپسند کرتا ہے تو ہم تجھے تبدیل کر دیں گے۔ اس نے کہا: میں نے شراب پی ہے اور بنو تمیم کا آدمی ہوں۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھے کوڑے لگائے، گنجا کیا، چہرہ سیاہ کیا اور لوگوں کا چکر لگوایا اور کہا نہ تو ان کے ساتھ بیٹھے گا اور نہ ہی ان کے ساتھ کھائے گا، تو میرے دل میں تینوں باتوں میں سے ایک آئی: ۱۔ ابوموسیٰ کو قتل کر دوں۔ ۲۔ آپ مجھے شام منتقل کر دیں وہاں مجھے کوئی نہیں جانتا۔ ۳۔ میں دشمن سے مل جاؤں ان کے ساتھ مل کر کھاؤں اور شراب پیا کروں۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: جو تو نے کیا اس نے مجھے خوش کر دیا اور بیشک عمر اسی طرح تھا۔ میں جاہلیت میں لوگوں کو شراب پلایا کرتا تھا۔ یہ زنا کی مانند نہیں ہے اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: «اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ» ”تجھ پر سلام ہو“، فلاں بن فلاں شخص نے مجھے یہ خبر دی ہے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ نے آئندہ ایسا کیا تو میں تیرا چہرہ سیاہ کر کے لوگوں کا چکر لگواؤں گا۔ اگر تو سچ خیال کرتا ہے جو میں کہہ رہا ہوں تو لوگوں کو حکم دو کہ وہ آپس میں مل جل کر بیٹھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھائیں۔ اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی شہادت بھی قبول کرو اور ان کو دو سو درہم دے دو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی: شرابی کی شہادت مقبول نہیں جب تک وہ توبہ نہ کرے اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شراب فروخت کرنے والے کی شہادت بھی مردود ہے؛ کیونکہ مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ اس کی فروخت حرام ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20948
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»