السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل الأشربة باب: شراب (یا نشہ آور مشروبات) پینے والوں کی گواہی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَجٍّ، أَوْ عُمْرَةٍ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَاكِبٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَرَى هَذَا يَطْلُبُنَا "، قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ فَبَكَى، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ، إِنْ كُنْتَ غَارِمًا أَعَنَّاكَ، وَإِنْ كُنْتَ خَائِفًا أَمَّنَّاكَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَتُقْتَلَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَرِهْتَ جِوَارَ قَوْمٍ حَوَّلْنَاكَ عَنْهُمْ "، قَالَ: إِنِّي شَرِبْتُ الْخَمْرَ، وَأَنَا أَحَدُ بَنِي تَيْمٍ، وَإِنَّ أَبَا مُوسَى جَلَدَنِي، وَحَلَقَنِي، وَسَوَّدَ وَجْهِي، وَطَافَ بِي فِي النَّاسِ، وَقَالَ: لَا تُجَالِسُوهُ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُ، فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا فَأَضْرِبَ بِهِ أَبَا مُوسَى، وَإِمَّا أَنْ آتِيَكَ فَتُحَوِّلَنِي إِلَى الشَّامِ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْرِفُونَنِي، وَإِمَّا أنْ أَلْحَقَ بِالْعَدُوِّ، وَآكُلَ مَعَهُمْ وَأَشْرَبَ، قَالَ: فَبَكَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّكَ فَعَلْتَ وَأَنَّ لِعُمَرَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنِّي كُنْتُ لَأَشْرَبَ النَّاسِ لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّهَا لَيْسَتْ كَالزِّنَا "، وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ التَّيْمِيَّ أَخْبَرَنِي بِكَذَا وَكَذَا، وَايْمُ اللهِ لَئِنْ عُدْتَ لَأُسَوِّدَنَّ وَجْهَكَ، وَلَأُطَوِّفَنَّ بِكَ فِي النَّاسِ، فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ حَقَّ مَا أَقُولُ لَكَ فَعُدْ، فَأْمُرِ ⦗٣٦٢⦘ النَّاسَ أَنْ يُجَالِسُوهُ وَيُؤَاكِلُوهُ، وَإِنْ تَابَ فَاقْبَلُوا شَهَادَتَهُ "، وَحَمَلَهُ وَأَعْطَاهُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ. فَأَخْبَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ شَهَادَتَهُ تَسْقُطُ بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ، وَأَنَّهُ إِذَا تَابَ حِينَئِذٍ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَائِعُ الْخَمْرِ مَرْدُودُ الشَّهَادَةِ، لِأَنَّهُ لَا خِلَافَ بَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي أَنَّ بَيْعَهَا مُحَرَّمٌ " قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى تَحْرِيمِ بَيْعِهَا مَعَ الْإِجْمَاعِ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ ".سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حج یا عمرہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ اچانک ہمیں ایک سوار ملا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ یہ ہمیں تلاش کر رہا ہے، راوی فرماتے ہیں کہ وہ آدمی آیا اور رو پڑا۔ پوچھا: تیری کیا حالت ہے؟ اگر تو مقروض ہے تو ہم تیری مدد کریں گے۔ اگر تو ڈرتا ہے تو ہم تجھے پناہ دیں گے، سوائے اس کے کہ تو نے کسی جان کو قتل کیا ہو تو تجھے قصاصاً قتل کیا جائے گا، اور اگر تو کسی قوم کے پڑوس کو ناپسند کرتا ہے تو ہم تجھے ان سے منتقل کر دیں گے۔ اس نے کہا: میں نے شراب پی ہے اور میں بنو تیم کا آدمی ہوں۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھے کوڑے لگائے، سر مونڈا، چہرہ سیاہ کیا اور لوگوں میں میرا چکر لگوایا اور کہا: نہ اس کے ساتھ بیٹھو اور نہ اس کے ساتھ کھاؤ، تو میرے دل میں تین باتوں میں سے ایک آئی: 1۔ تلوار لے کر ابوموسیٰ کو ماروں۔ 2۔ آپ کے پاس آؤں کہ آپ مجھے شام منتقل کر دیں، وہاں مجھے کوئی نہیں جانتا۔ 3۔ میں دشمن سے مل جاؤں اور ان کے ساتھ کھاؤں پیوں۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ تو ایسا کرتا، چاہے عمر کو اتنا اتنا مل جائے۔ میں جاہلیت میں سب لوگوں سے زیادہ شراب پینے والا تھا، اور یہ زنا کی مانند نہیں ہے۔ اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: «سَلَامٌ عَلَيْكَ» ”تجھ پر سلام ہو“، امابعد! فلاں بن فلاں تیمی نے مجھے یہ یہ خبر دی ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تو نے دوبارہ ایسا کیا تو میں تیرا چہرہ سیاہ کر کے لوگوں میں تیرا چکر لگواؤں گا۔ اگر تو جاننا چاہتا ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے تو دوبارہ کر کے دیکھ لے۔ لوگوں کو حکم دو کہ وہ اس کے ساتھ بیٹھیں اور اس کے ساتھ کھائیں، اور اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی شہادت قبول کرو۔ اور (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) اسے سواری دی اور دو سو درہم عطا کیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتا دیا کہ شراب پینے سے اس کی شہادت ساقط ہو جاتی ہے اور جب وہ توبہ کر لے تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شراب فروخت کرنے والے کی شہادت بھی مردود ہے؛ کیونکہ مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ اس کی فروخت حرام ہے۔