❮
❯
حدیث نمبر: 9999
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، يَعْنِي الْعُرَنِيَّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكَ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَيَتَطَيَّبُ؟ قَالَ: " أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ " أَوْ قَالَ: " بِالسُّكِّ أَفَطِيبٌ ذَلِكَ أَمْ لَا؟ ".
حافظ ثناء اللہ

حسن عرنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ رمی جمار کر لیں تو آپ کے لیے ہر چیز جائز ہے سوائے عورتوں کے، جب تک آپ بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں۔ ایک آدمی نے کہا: کیا وہ خوشبو لگا لے؟ انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ سر پر کستوری کا لیپ کرتے تھے، یا فرمایا: سُک (ایک خوشبو) کا، تو کیا یہ خوشبو ہے یا نہیں؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9999
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»