السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من قال: يحل الصيد بالتحلل الأول، ومن قال: لا يحل باب: ان کا بیان جنہوں نے فرمایا: ”پہلے تحلل (حلال ہونے) سے شکار کرنا حلال ہو جاتا ہے“، اور جنہوں نے فرمایا: ”حلال نہیں ہوتا“۔
حدیث نمبر: 9998
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ ⦗٣٣٥⦘ نَافِعًا، حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَةَ يُعَلِّمُهُمْ أَمْرَ الْحَجِّ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُمْ: " إِذَا جِئْتُمْ مِنًى فَمَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ لَا يَمَسَّ أَحَدٌ نِسَاءً وَلَا طِيبًا حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " قَالَ مَالِكٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".حافظ ثناء اللہ
حسن عرنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ رمی جمار کر لیں تو آپ کے لیے ہر چیز جائز ہے سوائے عورتوں کے، جب تک آپ بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں۔ ایک آدمی نے کہا: کیا وہ خوشبو لگا لے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے سر کو کستوری سے لیپ رکھا تھا، معلوم نہیں یہ خوشبو تھی یا نہیں۔