السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من قال: يحل الصيد بالتحلل الأول، ومن قال: لا يحل باب: ان کا بیان جنہوں نے فرمایا: ”پہلے تحلل (حلال ہونے) سے شکار کرنا حلال ہو جاتا ہے“، اور جنہوں نے فرمایا: ”حلال نہیں ہوتا“۔
حدیث نمبر: 10000
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " إِذَا ذَبَحَ وَحَلَقَ وَأَصَابَ صَيْدًا قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ فَإِنَّ عَلَيْهِ جَزَاءَهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ إِحْرَامِهِ شَيْءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَإِذْا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا} [المائدة: ٢] ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اہل مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے رمیِ جمرہ کے بعد شکار کر لیا اور طوافِ افاضہ نہ کیا ہو، اس پر فدیہ ہے۔