السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: النفر يصيبون الصيد باب: چند لوگوں کا مل کر شکار مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9997
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّ مَوَالِيَ، لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَحَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا فَوَقَعَ فِي أَنْفُسِهِمْ فَأَتَوْا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ كَبْشٌ "، قَالُوا: عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ؟ قَالَ: " إِنَّكُمْ لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ كُلُّكُمْ كَبْشٌ " قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ اللُّغَوِيُّونَ: لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ: أَيْ لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا.حافظ ثناء اللہ
بنو ہاشم کے غلام عمار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے غلاموں نے احرام باندھا ہوا تھا کہ ان کے پاس سے ایک بجو گزرا تو انہوں نے اسے لاٹھیاں ماریں اور اس کو مار لیا۔ ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارے ذمہ ایک مینڈھا ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ہر شخص کے ذمہ مینڈھا ہے؟ فرمانے لگے: تم پر سختی کی گئی ہے، تم میں سے ہر ایک کے اوپر مینڈھا ہے، علی (بن عمر) کہتے ہیں کہ لغویوں نے کہا: «لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ» کا معنی «لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ» ہے۔