السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: النفر يصيبون الصيد باب: چند لوگوں کا مل کر شکار مارنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّ مَوَالِيَ، لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَحَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا فَوَقَعَ فِي أَنْفُسِهِمْ فَأَتَوْا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ كَبْشٌ "، قَالُوا: عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ؟ قَالَ: " إِنَّكُمْ لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ كُلُّكُمْ كَبْشٌ " قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ اللُّغَوِيُّونَ: لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ: أَيْ لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عرفہ کے میدان میں خطبہ ارشاد فرمایا، آپ ان کو حج کے احکام سکھا رہے تھے۔ ان میں سے بعض نے کہا: ”جب تم منیٰ میں رمیٔ جمار کر لو تو تمہارے لیے وہ چیز حلال ہو جاتی ہے جو تم پر حرام تھی، سوائے عورتوں اور خوشبو کے۔ عورت سے ہمبستری اور خوشبو کا استعمال بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے نہ کرے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے جمرہ کو رمی کیا، پھر سر منڈوایا یا بال کتروائے، اگر پاس قربانی ہو تو ذبح کرے، تو اس کے لیے وہ اشیاء جائز ہیں جو اس پر حرام تھیں لیکن عورتیں اور خوشبو بیت اللہ کے طواف کے بعد جائز ہوں گی۔“