حدیث نمبر: 9996
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي بِشْرٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا مُجَاهِدٌ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالُوا: إِنَّا أَنْفَجْنَا ضَبُعًا فَرَدَدْنَاهَا بَيْنَنَا فَأَصَبْنَاهَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنْ كَانَ ضَبُعًا فَكَبْشٌ سَمِينٌ، وَإِنْ كَانَ ضَبُعَةً فَنَعْجَةٌ سَمِينَةٌ ". قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنْ تَخَارَجُوا بَيْنَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

بنو ہاشم کے غلام عمار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے غلاموں نے احرام باندھا، ان کے پاس سے گوہ گزری تو انہوں نے لاٹھیاں ماریں اور اس کو پکڑ لیا۔ ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارے ذمہ ایک مینڈھا ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ہر شخص کے ذمہ مینڈھا ہے؟ فرمانے لگے: تم نے اپنے اوپر سختی کی ہے، تم میں سے ہر ایک کے اوپر مینڈھا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لغویوں نے کہا: «لَمُعَزَّرٌ» کا معنی «لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ» ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9996
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الدارقطني 2/ 250»