السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: جواز الرعي في الحرم باب: حدودِ حرم میں جانور چرانے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 9983
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ فِي قِصَّةِ حَرَمِ الْمَدِينَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةً إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ " - وَفِي رِوَايَةِ هُدْبَةَ - " بَعِيرًا ".حافظ ثناء اللہ
ابو حسان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حرمِ مدینہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا، فرمایا: ”اس کا گھاس نہ کاٹا جائے، شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھائے۔ کسی آدمی کے لیے لڑائی کی غرض سے اس میں اسلحہ اٹھانا درست نہیں اور کسی آدمی کے لیے اس کا درخت کاٹنا بھی درست نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے۔“ ہدبہ کی روایت میں «بَعِيرًا» (کسی اونٹ کو) کے الفاظ ہیں۔