کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: حدودِ حرم میں جانور چرانے کے جواز کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ، ثنا أَبِي، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَنَا شِدَّةٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا تَفْعَلْ، الزَمِ الْمَدِينَةَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظُنُّهُ، قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، قَالَ: فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فَقَالَ النَّاسُ: وَاللهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ إِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ وَمَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي يَبْلُغُنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ؟ " مَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ، قَالَ: " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ "، أَوْ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ "، أَوْ " إِنِّي سَأَهُمُّ " لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ " لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرَحَّلُ ثُمَّ لَا أَحُلَّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ " وَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا اللهُمَّ إِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهَرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا " ثَلَاثًا " اللهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ مِنْ شِعْبٍ وَلَا نَقْبٍ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا " ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " ارْتَحِلُوا " فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ، أَوْ يُحْلَفُ بِهِ - شَكَّ حَمَّادٌ فِي هَذِهِ الْكَلِمَةِ وَحْدَهَا -، مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْهَا بَنُو عَبْدِ اللهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يُهَيِّجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
مہری کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ ان کو مدینہ میں سخت اور مشکل دن آگئے۔ وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے: میں زیادہ عیال دار ہوں اور ہمیں سختی آئی ہے، میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کو کسی سرسبز دیہات میں منتقل کر دوں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ایسا نہ کرنا، مدینہ کو لازم پکڑو؛ کیونکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: یہاں تک کہ ہم عسفان آگئے۔ آپ ﷺ نے وہاں پر چند راتیں قیام کیا، لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہاں کسی کام میں نہیں جبکہ ہمارے گھر والے پیچھے اکیلے ہیں اور ہم ان کے بارے میں بے خوف نہیں ہیں۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے جو تمہاری باتوں کی مجھے خبر ملی ہے؟“ (راوی کہتے ہیں:) میں نہیں جانتا آپ ﷺ نے کیسے فرمایا، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کی میں قسم اٹھاتا ہوں“ یا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا“ یا ”میں عنقریب ارادہ کروں گا“، میں نہیں جانتا دونوں میں سے کیا فرمایا: ”کہ میں اپنی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دوں، پھر میں اس کی کوئی گرہ نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ آجاؤں“ اور فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا بنایا اور اسے حرم قرار دیا، اے اللہ! میں نے مدینہ کو اس کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان حرم قرار دیا ہے کہ اس میں خون نہ بہایا جائے، لڑائی کی غرض سے ہتھیار نہ اٹھائے جائیں اور کسی درخت کے پتے نہ جھاڑے جائیں مگر چارے کے لیے۔ اے اللہ! ہمارے مدینہ میں برکت فرما، اے اللہ! ہمارے صاع میں برکت فرما، اے اللہ! ہمارے مد میں برکت فرما“ تین مرتبہ فرمایا: ”اے اللہ! برکت کے ساتھ دو برکتیں اور دے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مدینہ کی کوئی گھاٹی اور راستہ ایسا نہیں جس پر دو فرشتے پہرہ نہ دیتے ہوں، یہاں تک کہ تم اس کی طرف آؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ”کوچ کرو“، ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف آئے۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم اٹھاتے ہیں یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو صرف اس ایک کلمہ کے بارے میں شک ہے، ہم نے مدینہ میں داخل ہو کر ابھی کجاوے نہ اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے اس پر حملہ کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے کسی چیز نے ان کو اس پر نہ ابھارا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9982
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 2035»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ فِي قِصَّةِ حَرَمِ الْمَدِينَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةً إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ " - وَفِي رِوَايَةِ هُدْبَةَ - " بَعِيرًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حسان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حرمِ مدینہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا، فرمایا: ”اس کا گھاس نہ کاٹا جائے، شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھائے۔ کسی آدمی کے لیے لڑائی کی غرض سے اس میں اسلحہ اٹھانا درست نہیں اور کسی آدمی کے لیے اس کا درخت کاٹنا بھی درست نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے۔“ ہدبہ کی روایت میں «بَعِيرًا» (کسی اونٹ کو) کے الفاظ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9983
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه احمد 2/ 12»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ، قَالَ: فَذَهَبَ عَبْدُ اللهِ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ عَبْدُ اللهِ؟ أَيْنَ عَبْدُ اللهِ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتح میں حاضر ہوئے۔ وہ 20 سال کے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا اڑیل گھوڑا تھا اور بھاری نیزہ بھی۔ کہتے ہیں کہ عبداللہ اپنے گھوڑے کے لیے گھاس کاٹنے چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عبداللہ کہاں ہے؟ عبداللہ کہاں ہے؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9984
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»