حدیث نمبر: 9982
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ، ثنا أَبِي، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَنَا شِدَّةٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا تَفْعَلْ، الزَمِ الْمَدِينَةَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظُنُّهُ، قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، قَالَ: فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فَقَالَ النَّاسُ: وَاللهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ إِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ وَمَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي يَبْلُغُنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ؟ " مَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ، قَالَ: " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ "، أَوْ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ "، أَوْ " إِنِّي سَأَهُمُّ " لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَالَ " لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرَحَّلُ ثُمَّ لَا أَحُلَّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ " وَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا اللهُمَّ إِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهَرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا " ثَلَاثًا " اللهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ مِنْ شِعْبٍ وَلَا نَقْبٍ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا " ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " ارْتَحِلُوا " فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ، أَوْ يُحْلَفُ بِهِ - شَكَّ حَمَّادٌ فِي هَذِهِ الْكَلِمَةِ وَحْدَهَا -، مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْهَا بَنُو عَبْدِ اللهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يُهَيِّجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حسان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حرمِ مدینہ کے بارے میں فرماتے ہیں جو انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا، فرمایا: ”اس کا گھاس نہ کاٹا جائے، شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھائے۔ لڑائی کی غرض سے کسی کے لیے اسلحہ اٹھانا جائز نہیں اور کسی کے لیے اس کے درخت کاٹنا بھی جائز نہیں۔ صرف اس کے لیے جو اپنے اونٹوں کو چارہ دینا چاہے۔“ ایک روایت میں «ہَدَبَةً» کے لفظ ہیں یعنی اونٹ۔
حدیث نمبر: 9983
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَلِيٍّ فِي قِصَّةِ حَرَمِ الْمَدِينَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَادَ بِهَا، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَحْمِلَ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ، وَلَا يَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ يَقْطَعَ مِنْهَا شَجَرَةً إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ " - وَفِي رِوَايَةِ هُدْبَةَ - " بَعِيرًا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتح میں حاضر ہوئے۔ وہ ٢٠ سال کے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا گھوڑا حرون تھا اور بھاری نیزہ بھی۔ کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے گھاس کاٹتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندے! ہٹ جا، اے اللہ کے بندے! ہٹ جا۔“
حدیث نمبر: 9984
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ، قَالَ: فَذَهَبَ عَبْدُ اللهِ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ عَبْدُ اللهِ؟ أَيْنَ عَبْدُ اللهِ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دونوں ناپسند کرتے تھے کہ حرمِ مکہ کی مٹی اور پتھروں کو حل کی جانب منتقل کیا جائے۔
(ب) عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں: میں اپنی والدہ یا اپنی دادی کے ساتھ مکہ آیا، وہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تھیں، انہوں نے ان کی عزت کی، صفیہ کہنے لگیں: میں نہیں جانتی کہ میں ان کو کیسا بدلہ دوں، پھر انہوں نے رکن کا ٹکڑا دیا، اس کو ساتھ لے کر ہم وہاں سے نکلے اور ہم نے پہلی منزل پر پڑاؤ کیا۔ انہوں نے ان تمام کی بیماری کا تذکرہ کیا، راوی کہتے ہیں کہ میری ماں یا دادی نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ ٹکڑا ہم نے حرم سے منتقل کیا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا اور میں بھی ان کی مانند تھا: یہ ٹکڑا صفیہ کے پاس لے جاؤ اور ان کو واپس کر دو، ان سے کہنا کہ جو چیز اللہ نے حرم میں رکھی ہے، اس کو یہاں سے منتقل کرنا درست نہیں ہے۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے کہا کہ ہم حرم میں تیرے داخلے کا انتظار کریں گے، گویا کہ ہمیں رسیوں سے کھول دیا گیا۔
(ب) عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں: میں اپنی والدہ یا اپنی دادی کے ساتھ مکہ آیا، وہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تھیں، انہوں نے ان کی عزت کی، صفیہ کہنے لگیں: میں نہیں جانتی کہ میں ان کو کیسا بدلہ دوں، پھر انہوں نے رکن کا ٹکڑا دیا، اس کو ساتھ لے کر ہم وہاں سے نکلے اور ہم نے پہلی منزل پر پڑاؤ کیا۔ انہوں نے ان تمام کی بیماری کا تذکرہ کیا، راوی کہتے ہیں کہ میری ماں یا دادی نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ ٹکڑا ہم نے حرم سے منتقل کیا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا اور میں بھی ان کی مانند تھا: یہ ٹکڑا صفیہ کے پاس لے جاؤ اور ان کو واپس کر دو، ان سے کہنا کہ جو چیز اللہ نے حرم میں رکھی ہے، اس کو یہاں سے منتقل کرنا درست نہیں ہے۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے کہا کہ ہم حرم میں تیرے داخلے کا انتظار کریں گے، گویا کہ ہمیں رسیوں سے کھول دیا گیا۔