السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: جواز الرعي في الحرم باب: حدودِ حرم میں جانور چرانے کے جواز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ، قَالَ: فَذَهَبَ عَبْدُ اللهِ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ عَبْدُ اللهِ؟ أَيْنَ عَبْدُ اللهِ؟ ".عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دونوں ناپسند کرتے تھے کہ حرمِ مکہ کی مٹی اور پتھروں کو حل کی جانب منتقل کیا جائے۔
(ب) عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں: میں اپنی والدہ یا اپنی دادی کے ساتھ مکہ آیا، وہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تھیں، انہوں نے ان کی عزت کی، صفیہ کہنے لگیں: میں نہیں جانتی کہ میں ان کو کیسا بدلہ دوں، پھر انہوں نے رکن کا ٹکڑا دیا، اس کو ساتھ لے کر ہم وہاں سے نکلے اور ہم نے پہلی منزل پر پڑاؤ کیا۔ انہوں نے ان تمام کی بیماری کا تذکرہ کیا، راوی کہتے ہیں کہ میری ماں یا دادی نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ ٹکڑا ہم نے حرم سے منتقل کیا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا اور میں بھی ان کی مانند تھا: یہ ٹکڑا صفیہ کے پاس لے جاؤ اور ان کو واپس کر دو، ان سے کہنا کہ جو چیز اللہ نے حرم میں رکھی ہے، اس کو یہاں سے منتقل کرنا درست نہیں ہے۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے کہا کہ ہم حرم میں تیرے داخلے کا انتظار کریں گے، گویا کہ ہمیں رسیوں سے کھول دیا گیا۔