السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية قطع الشجر بكل موضع حماه النبي صلى الله عليه وسلم باب: ہر اس جگہ کے درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان جسے نبی ﷺ نے چراگاہ (حرم) قرار دیا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى الْبَقِيعَ لِلْخَيْلِ " وَرُوِّينَا ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ.یحییٰ بن ابی اسحاق فہری کے غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ ان کو مدینہ میں سخت اور مشکل دن آگئے۔ وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے: میں زیادہ عیال دار ہوں اور ہمیں سختی آئی ہے، میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کو سبزہ زار یا پانی کے چشمے کے قریب منتقل کر دوں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ایسا نہ کرنا، مدینہ کو لازم پکڑو؛ کیونکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، شاید عسفان جگہ پر آگئے۔ وہاں پر چند راتیں قیام کیا، لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہاں کسی چیز میں نہیں کیونکہ ہمارے گھر والے پیچھے ہیں اور ہم ان پر بے خوف اور امن میں نہیں ہیں۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے جو تمہاری باتوں کی مجھے خبر ملی ہے؟ میں نہیں جانتا کیا حالت ہے“، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا یا عنقریب ارادہ رکھتا ہوں“، (راوی کہتے ہیں) میں نہیں جانتا دونوں میں سے کیا فرمایا۔ پھر فرمایا: ”ضرور میں اپنی اونٹنی کا کجاوہ رکھنے کا حکم دوں گا، پھر میں اس کی گرہ کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ مدینہ آجاؤں“ اور فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا» ”اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کو بنایا بھی ہے، اے اللہ! میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کناروں کے درمیان خون نہ بہایا جائے اور ہتھیار نہ اٹھائے جائیں لڑائی کی غرض سے اور درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں مگر چارے کے لیے۔“ «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا» ”اے اللہ! ہمارے مدینہ کے مد اور صاع میں برکت فرما۔“ تین مرتبہ فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» ”اے اللہ! دگنی برکت دے۔“ ”اللہ کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، مدینہ کی کوئی گھاٹی اور راستہ ایسا نہیں، جہاں دو فرشتے پہرہ نہ دیتے ہوں، یہاں تک کہ تم اس کی طرف آؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوچ کرو“، ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اللہ کی قسم! ہم اٹھاتے ہیں یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو اس اکیلے کلمہ کے بارے میں شک ہے، ہم نے سواریوں سے کجاوے نہ اتارے تھے جس وقت مدینہ میں داخل ہوئے، یہاں تک کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے حملہ کر دیا اور اس سے پہلے کسی چیز نے ان کو اس پر نہ ابھارا تھا۔