کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ہر اس جگہ کے درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان جسے نبی ﷺ نے چراگاہ (حرم) قرار دیا ہو۔
حدیث نمبر: 9978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، أَوْ قَالَ: مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُخْبَطْ وَلَا يُعْضَدْ حِمَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ يُهَشُّ هَشًّا رَفِيقًا " كَذَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن حارث اپنے والد حارث بن رافع بن مکیث جہنی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہماری بکریاں ہیں اور ہمارے غلام ان بکریوں کے لیے پتے جھاڑتے ہیں، رسی وغیرہ کی مدد سے۔ خارجہ کہتے ہیں: یہ ببول کا درخت تھا اور جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”نبی ﷺ کی چراگاہ سے نہ تو درخت کاٹے جائیں لیکن آرام و سکون سے پتے جھاڑے جا سکتے ہیں“، حضرت جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کا ریشہ کاٹنے سے بھی منع فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9978
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
حدیث نمبر: 9979
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبُعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السُّرِّيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرِّبْعِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لَنَا غَنَمًا وَغِلْمَانًا وَهُمْ يَخْبِطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ مِنْ هَذِهِ الثَّمَرَةِ الْحَبَلَةِ "، قَالَ خَارِجَةُ: وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمُرَةِ، قَالَ جَابِرٌ: " لَا ثُمَّ لَا، لَا يُخْبَطْ وَلَا يُعْضَدْ حِمَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا "، قَالَ جَابِرٌ: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّهُ قَالَ: يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ الْمَسَدُ " قَالَ جَابِرٌ: وَالْمَسَدُ: مِرْوَدٌ لِلْبَكْرَةِ، قَالَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ: الْحِمَى حَوْلَ الْمَدِينَةِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا جو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، ان کی زمین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملتی تھی (یعنی ان کی زمین سے) اس میں ترکاریاں اور سبزیاں تھیں، کہتے ہیں: بعض اوقات میرے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت تشریف لاتے اور اپنا کپڑا سر پر رکھے ہوئے ہوتے، چراگاہ کی حفاظت فرماتے اور کہتے کہ اس کے درختوں وغیرہ کو نہ کاٹا جائے، راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور میرے ساتھ باتیں کرتے، میں ان کو ککڑیاں کھلاتا، انہوں نے ایک دن مجھ سے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ یہاں سے نہ جائیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: ٹھیک ہے، فرمانے لگے: میں تجھے یہاں کا عامل بنانا چاہتا ہوں، جس کو تو دیکھے کہ وہ درخت کاٹتا ہے یا پتے جھاڑتا ہے تو اس کا کلہاڑا اور رسی پکڑ لینا، کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا میں اس کی چادر لے لوں؟ فرمانے لگے: نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9979
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 1/ 48»
حدیث نمبر: 9980
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَكَانَ يَلِي أَرْضًا لِعُثْمَانَ فِيهَا بَقْلٌ وَقِثَّاءٌ، قَالَ: فَرُبَّمَا أَتَانِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نِصْفَ النَّهَارِ وَاضِعًا ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِهِ يَتَعَاهَدُ الْحِمَى أَنْ لَا يُعْضَدَ شَجَرُهُ وَلَا يُخْبَطَ، قَالَ: فَيَجْلِسُ إِلِيَّ فَيُحَدِّثُنِي وَأُطْعِمُهُ مِنَ الْقِثَّاءِ وَالْبَقْلِ، فَقَالَ لِي يَوْمًا: " أَرَاكَ لَا تَخْرُجُ مِنْ هَا هُنَا "، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: " إِنِّي أَسْتَعْمِلُكَ عَلَى مَا هَا هُنَا فَمَنْ رَأَيْتَ يَعْضِدُ شَجَرًا، أَوْ يَخْبِطُ فَخُذْ فَأْسَهُ وَحَبْلَهُ "، قَالَ: قُلْتُ: آخُذُ رِدَاءَهُ؟، قَالَ: " لَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نقیع کی چراگاہ گھوڑوں کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9980
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه احمد 2/ 155»
حدیث نمبر: 9981
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى الْبَقِيعَ لِلْخَيْلِ " وَرُوِّينَا ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابی اسحاق فہری کے غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ ان کو مدینہ میں سخت اور مشکل دن آگئے۔ وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے: میں زیادہ عیال دار ہوں اور ہمیں سختی آئی ہے، میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کو سبزہ زار یا پانی کے چشمے کے قریب منتقل کر دوں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ایسا نہ کرنا، مدینہ کو لازم پکڑو؛ کیونکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، شاید عسفان جگہ پر آگئے۔ وہاں پر چند راتیں قیام کیا، لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہاں کسی چیز میں نہیں کیونکہ ہمارے گھر والے پیچھے ہیں اور ہم ان پر بے خوف اور امن میں نہیں ہیں۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے جو تمہاری باتوں کی مجھے خبر ملی ہے؟ میں نہیں جانتا کیا حالت ہے“، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا یا عنقریب ارادہ رکھتا ہوں“، (راوی کہتے ہیں) میں نہیں جانتا دونوں میں سے کیا فرمایا۔ پھر فرمایا: ”ضرور میں اپنی اونٹنی کا کجاوہ رکھنے کا حکم دوں گا، پھر میں اس کی گرہ کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ مدینہ آجاؤں“ اور فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا» ”اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کو بنایا بھی ہے، اے اللہ! میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کناروں کے درمیان خون نہ بہایا جائے اور ہتھیار نہ اٹھائے جائیں لڑائی کی غرض سے اور درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں مگر چارے کے لیے۔“ «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا» ”اے اللہ! ہمارے مدینہ کے مد اور صاع میں برکت فرما۔“ تین مرتبہ فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» ”اے اللہ! دگنی برکت دے۔“ ”اللہ کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، مدینہ کی کوئی گھاٹی اور راستہ ایسا نہیں، جہاں دو فرشتے پہرہ نہ دیتے ہوں، یہاں تک کہ تم اس کی طرف آؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوچ کرو“، ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اللہ کی قسم! ہم اٹھاتے ہیں یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو اس اکیلے کلمہ کے بارے میں شک ہے، ہم نے سواریوں سے کجاوے نہ اتارے تھے جس وقت مدینہ میں داخل ہوئے، یہاں تک کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے حملہ کر دیا اور اس سے پہلے کسی چیز نے ان کو اس پر نہ ابھارا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9981
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1374»