السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية قطع الشجر بكل موضع حماه النبي صلى الله عليه وسلم باب: ہر اس جگہ کے درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان جسے نبی ﷺ نے چراگاہ (حرم) قرار دیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَكَانَ يَلِي أَرْضًا لِعُثْمَانَ فِيهَا بَقْلٌ وَقِثَّاءٌ، قَالَ: فَرُبَّمَا أَتَانِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نِصْفَ النَّهَارِ وَاضِعًا ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِهِ يَتَعَاهَدُ الْحِمَى أَنْ لَا يُعْضَدَ شَجَرُهُ وَلَا يُخْبَطَ، قَالَ: فَيَجْلِسُ إِلِيَّ فَيُحَدِّثُنِي وَأُطْعِمُهُ مِنَ الْقِثَّاءِ وَالْبَقْلِ، فَقَالَ لِي يَوْمًا: " أَرَاكَ لَا تَخْرُجُ مِنْ هَا هُنَا "، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: " إِنِّي أَسْتَعْمِلُكَ عَلَى مَا هَا هُنَا فَمَنْ رَأَيْتَ يَعْضِدُ شَجَرًا، أَوْ يَخْبِطُ فَخُذْ فَأْسَهُ وَحَبْلَهُ "، قَالَ: قُلْتُ: آخُذُ رِدَاءَهُ؟، قَالَ: " لَا ".محمد بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے دادا سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک زمین کی دیکھ بھال کرتے تھے جس میں ترکاریاں اور ککڑیاں تھیں، کہتے ہیں: بعض اوقات میرے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت تشریف لاتے اور اپنا کپڑا سر پر رکھے ہوئے ہوتے، چراگاہ کی دیکھ بھال فرماتے کہ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ پتے جھاڑے جائیں، راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور میرے ساتھ باتیں کرتے، میں ان کو ککڑیاں اور ترکاریاں کھلاتا، انہوں نے ایک دن مجھ سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ یہاں سے نہیں نکلتے، کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، فرمانے لگے: میں تجھے یہاں کا عامل بناتا ہوں، جس کو تو دیکھے کہ وہ درخت کاٹتا ہے یا پتے جھاڑتا ہے تو اس کا کلہاڑا اور رسی پکڑ لینا، کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا میں اس کی چادر لے لوں؟ فرمانے لگے: نہیں۔