السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية قطع الشجر بكل موضع حماه النبي صلى الله عليه وسلم باب: ہر اس جگہ کے درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان جسے نبی ﷺ نے چراگاہ (حرم) قرار دیا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبُعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السُّرِّيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرِّبْعِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لَنَا غَنَمًا وَغِلْمَانًا وَهُمْ يَخْبِطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ مِنْ هَذِهِ الثَّمَرَةِ الْحَبَلَةِ "، قَالَ خَارِجَةُ: وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمُرَةِ، قَالَ جَابِرٌ: " لَا ثُمَّ لَا، لَا يُخْبَطْ وَلَا يُعْضَدْ حِمَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا "، قَالَ جَابِرٌ: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّهُ قَالَ: يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ الْمَسَدُ " قَالَ جَابِرٌ: وَالْمَسَدُ: مِرْوَدٌ لِلْبَكْرَةِ، قَالَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ: الْحِمَى حَوْلَ الْمَدِينَةِ.خارجہ بن حارث اپنے والد حارث بن رافع بن مکیث جہنی سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہماری بکریاں ہیں اور غلام ہیں، وہ اپنی بکریوں کے لیے اس حبلہ پھل (والے درخت) سے پتے جھاڑتے ہیں۔ خارجہ کہتے ہیں: یہ ببول کے درخت کا پھل ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، پھر نہیں! رسول اللہ ﷺ کی چراگاہ کے نہ پتے جھاڑے جائیں اور نہ درخت کاٹے جائیں، لیکن آرام و سکون سے پتے گرا لو۔“ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ“، میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: ”مسد کاٹنے سے منع فرماتے تھے۔“ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسد چرخی کا دھرا (محور) ہوتا ہے۔ ابن ابی اویس کہتے ہیں: یہ چراگاہ مدینہ کے اردگرد ہے۔