السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
حدیث نمبر: 9976
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءُوا مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: " مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ "، فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن ابی عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، جس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس کے کپڑے چھین لیے۔ اس کے آقا آئے، انہوں نے اس کے بارے میں کلام کیا تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کو شکار کرتے پکڑ لیا وہ اس کا سامان لے لے۔“ میں تو وہ روزی جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا کی ہے ہرگز واپس نہ کروں گا، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں دے دیتا ہوں۔