حدیث نمبر: 9976
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءُوا مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: " مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ "، فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم ”طیہ“ سے آئے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ جب ہم ”سدرہ“ (بیری) کے پاس قرنِ اسود کے برابر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے نظروں کو ایک طرف جمایا، پھر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ لوگ بھی کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”شتر مرغ کا شکار اور اس کے درختوں کا کاٹنا بھی حرام کیا گیا ہے۔“
(ب) عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے نظر جما کر وادی میں دیکھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9976
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 2032»