السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية قتل الصيد وقطع الشجر بوج من الطائف باب: طائف کی وادیِ وج میں شکار کرنے اور درخت کاٹنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِنْسَانٍ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لِيَّةَ نُرِيدُ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْبًا بِبَصَرِهِ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى اتَّفَقَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا إنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ، يَعْنِي شَجَرَهُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ " وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفًا، ⦗٣٢٨⦘ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ فِيهِ: وَاسْتَقْبَلَ نَخْبًا بِبَصَرِهِ يَعْنِي وَادِيًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم ”لیہ“ سے آئے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ جب ہم ”سدرہ“ (بیری) کے پاس قرنِ اسود کے کنارے اس کے برابر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک وادی کی طرف نظریں جمائیں، پھر ٹھہر گئے یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! وج کا شکار اور اس کے کانٹے دار درخت حرام اور ممنوع ہیں۔“ اور یہ آپ ﷺ کے طائف میں پڑاؤ کرنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔
(ب) احمد بن حنبل کی عبداللہ بن حارث سے روایت میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے نظر جما کر ایک وادی کی طرف دیکھا۔