السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
حدیث نمبر: 9975
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ قَالَا: أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَجِدُ الْحَاطِبَ مَعَهُ شَجَرٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَدَهُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَيَأْخُذُ سَلَبَهُ فَيُكَلَّمُ فِيهِ فَيَقُولُ: " لَا أَدَعُ غَنِيمَةً غَنَّمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: " وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالًا " أَبُوهُ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، جس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس کے کپڑے چھین لیے۔ اس کے آقا آئے، انہوں نے اس کے بارے میں کلام کیا تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کو شکار کرتے پکڑ لیا وہ اس کا سامان لے لے۔“ میں تو وہ مال یا کھانا جو رسول اللہ ﷺ نے عطا کیا ہے ہرگز واپس نہ کروں گا، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت واپس کر دیتا ہوں۔