السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
حدیث نمبر: 9974
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ وَلَدِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنَ الشَّجَرِ شَيْئًا، يَعْنِي ⦗٣٢٧⦘ شَجَرَ حَرَمِ الْمَدِينَةِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُقْطَعُ " قَالَ: فَرَأَى سَعْدٌ غِلْمَانًا يَقْطَعُونَ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ فَانْتَهُوا إِلَى مَوَالِيهِمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ غِلْمَانَكَ أَوْ مَوَالِيَكَ أَخَذُوا مَتَاعَ غِلْمَانِنَا، قَالَ: بَلْ أَنَا أَخَذْتُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ " وَلَكِنْ سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ.حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ سے نکلے، انہوں نے حاطب کے پاس تر درخت پایا جو انہوں نے مدینہ کے درختوں سے کاٹا تھا، انہوں نے ان کا سامان لے لیا، اس کے بارے میں کلام کیا گیا تو وہ کہنے لگے: میں مالِ غنیمت نہ چھوڑوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا کیا ہے، اگرچہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مال والا ہوں۔