السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَوَجَدَ غُلَامًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.سعد کی اولاد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرمِ مدینہ سے درخت کاٹ رہا ہے، اس کی سلب یعنی سامان تمہارے لیے ہے۔ اس کے درختوں کا کاٹنا یا اکھاڑنا درست نہیں ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دو غلاموں کو درخت کاٹتے ہوئے پایا تو ان کا سامان لے لیا، وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئے اور انہیں خبر دی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس طرح کیا ہے؟ وہ آئے اور انہوں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کے غلاموں نے ہمارے غلاموں کا سامان چھین لیا ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے ہی چھینا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم کے درخت کاٹ رہا ہو تو، اس کا سامان تمہارے لیے ہے“، لیکن تم میرے مال کے بارے میں سوال کرو جو تم چاہو۔