السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
حدیث نمبر: 9972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ أَبُو عَوْفٍ الْبُزُورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا فَاسْتَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ عَبْدِهِمْ، قَالَ: " مَعَاذَ اللهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَلَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا.حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ عقیق نامی جگہ کی طرف سوار ہو کر اپنے محل گئے۔ انہوں نے ایک غلام کو پایا وہ درخت کاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سامان چھین لیا۔ جب وہ واپس آئے تو اس غلام کے گھر والے آگئے۔ وہ سوال کر رہے تھے کہ وہ چیز واپس کریں جو ان کے غلام سے لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ!“ کہ میں کوئی چیز واپس کروں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے غنیمت میں دی ہے اور ان کی طرف کچھ بھی واپس نہ کیا۔