حدیث نمبر: 9971
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ الْأَسْوَافَ، مَوْضِعٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَاصْطَادَ بِهَا نَهَسًا يَعْنِي طَيْرًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ مَعَهُ، قَالَ: فَعَرَكَ أُذُنِي، ثُمَّ قَالَ: " خَلِّ سَبِيلَهُ لَا أُمَّ لَكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا؟ " وَيُرْوَى فِيهِ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ

عامر بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ عقیق نامی جگہ کی طرف سوار ہو کر اپنے گھر گئے۔ انہوں نے ایک غلام کو پایا وہ درخت کاٹ رہا تھا، انہوں نے اس سے چھین لیا۔ جب وہ غلام گھر واپس گیا تو اس کے گھر والے آگئے۔ وہ سوال کر رہے تھے کہ واپس کریں جو ان کے غلام سے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ!“ کہ میں کوئی چیز واپس کروں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے غنیمت میں دی ہے اور ان کی طرف کچھ بھی واپس نہ کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9971
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1364»